قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 225 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 225

225 لقبل منهم ونوادعهم وقد ابينا عليهم ونبذنا اليهم عهدهم فاستعدوا واعدو فما لبثوا الا ثلاثا حتى طرقوا المدينة غارة مع الليل وخلفوا بعضهم بذى حُسى ليكونوا لهم رداً - تاریخ طبری جلد 4 صفحہ 1875) یعنی تمام ملک اب کا فر ہے اور اُن کے وفد نے تمہاری قلت تعداد کو دیکھ لیا ہے۔تمہیں معلوم نہیں کہ رات کے وقت ان پر حملہ کریں یا دن کو اور ان میں سے قریب ترین لوگ تم سے ایک منزل کے فاصلہ پر ہیں۔وہ چاہتے تھے کہ ہم اُن کی بات قبول کر کے اُن سے معاہدہ کر لیں۔اور ہم نے اس سے انکار کیا۔پس تم اُن کے حملہ کے لئے تیار ہو جاؤ۔اور تین دن ہی گزرے تھے کہ اُنہوں نے رات کے وقت مدینہ پر آکر چھاپہ مارا اور ایک جماعت کو ذی حسی میں چھوڑ آئے تا وہ اُن کے مددگار ہوں۔حامیان قتل مرتد نوٹ کریں کہ یہ چھا پہ مارنے والی جماعت وہی لوگ تھے جوز کو ۃ معاف کرانے کے لئے مدینہ آئے تھے۔جب درخواست نامنظور ہوئی تو تین دن کے اندر مدینہ پر حملہ کر دیا۔مندرجہ بالا حوالجات سے ناظرین نے دیکھ لیا ہے کہ مرتدین نے مسلمانوں پر حملہ کرنے میں پیشدستی کی اور اُن کو قلیل اور کمز ور دیکھ کر سمجھا کہ ہم مدینہ کو فتح کر لیں گے اور اسلامی سلطنت کے پایہ تخت پر قابض ہو جائیں گے۔مگر خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق خلیفہ وقت کی تائید کی اور دشمنوں کو خائب و خاسر لوٹا دیا۔مرتدین نے صرف مدینہ ہی پر حملے نہیں کئے تھے بلکہ انہوں نے مرتد ہوتے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد معا أن صادق الایمان مسلمانوں کو بھی تہ تیغ کر دیا جوان قوموں میں بستے تھے اور جو باوجود اپنی قوم کے مرتد ہو جانے کے اسلام پر قائم رہے تھے چنانچہ ابن خلدون میں لکھا ہے:۔