قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 214 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 214

214 ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس قدر محنت اور تکلیف اُٹھا کرا حادیث کی چھان بین کی اور اُن کو مدون کیا۔آج انہی کی محنت اور جانفشانی کے طفیل ہم حامیان قتل مرتد پر فتح حاصل کر رہے ہیں۔اگر یہ بزرگ ہمارے لئے یہ ہتھیار نہ چھوڑ جاتے تو ہم مولوی صاحبان کی غلطی کا حدیث کے ذریعہ کس طرح ازالہ کرتے۔اگر دواوین حدیث میں یہ الفاظ آج موجود نہ ہوتے کہ رجل خرج محاربا لله ورسوله اور رجل يخرج من الاسلام فيحارب الله عزّوجل ورسوله اور رجل حارب الله ورسوله وارتد عن الاسلام۔اور حارب الله ورسوله صلى الله عليه وسلم۔اور التارك لدينه المفارق للجماعة اور المارق لدينه الفارق للجماعة اور لا تقتل النساء اذاهن ارتددن اور اگر عدم قتل مرتد کے متعلق احادیث موجود نہ ہوتیں اور اگر ایسے مرتدین کے واقعات موجود نہ ہوتے جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے باوجود قدرت کے قتل نہ کیا۔اگر صلح حدیبیہ کی شرائط احادیث میں موجود نہ ہوتیں جن کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد کیا کہ اگر کوئی مسلمان مرتد ہوکر مشرکین سے جاملے گا تو اس کا مطالبہ نہ کیا جائے گا۔اگر احادیث میں عبداللہ بن ابی سرح مرتد کی حضرت عثمان کی سفارش پر معافی کا ذکر نہ ہوتا۔اگر احادیث سے یہ ثابت نہ ہوتا کہ جن مرتدین کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قتل کروایا اُن کو ارتداد کی وجہ سے نہیں بلکہ اُن کے جرائم کی وجہ سے قتل کروایا۔اگر یہ سب زبر دست دلائل آج ہمیں دواوین حدیث میں لکھے ہوئے نہ ملتے تو ہم کس طرح مرتد کے دعویداروں پر خود ان احادیث کے ذریعہ اُن کی غلطی واضح کر سکتے۔پس ہم دواوین حدیث کو نہایت عزت و احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔کیونکہ اُن کے ذریعہ ہمیں اس بحث میں بہت مددملی ہے۔اسی طرح ہم دو اوین فقہ کو بھی نہایت ادب اور احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اُن فقہاء کے ہم شکر گزار ہیں جنہوں نے تحقیق حق کے لئے نہایت ہی قیمتی اصول قائم کئے