قتل مرتد اور اسلام — Page 215
215 ہیں۔دیکھئے ان بزرگوں کے قائم کردہ اصول سے ہمیں کیسی مدد لی۔دواوین حدیث میں قتل مرتد کے متعلق ہمیں دو قسم کی احادیث میں ایک وہ جن میں ارتداد کا ذکر تھا یعنی ایسے الفاظ تھے کہ من بدل دينه۔من غير ديـنـه۔ارتد عن الاسلام۔كفر بعد الاسلام اور دوسری وہ جن میں ارتداد کے ساتھ محاربہ کی بھی شرط تھی۔اب ان دو قسم کی احادیث کے متعلق فیصلہ کرنے میں فقہاء نے ہمیں کیسا زرین اصول بتایا کہ ایسی صورت میں جن احادیث کے ساتھ شرط مذکور نہیں ہے وہاں بھی شرط کا وجود قرار دینا چاہئیے اور مطلق کو مقید کے تابع کرنا چاہئیے۔دیکھو ہمیں فقہاء کے اس مسلمہ اصول سے کیسی مددملی اور کس طرح تمام احادیث کے متعلق صحیح فیصلہ کی راہ ہم پر کھولی گئی جو ہر ایک طالب حق کو تسلی بخشتی ہے اور قرآن شریف کی تعلیم کے عین مطابق ہے۔پس خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ جیسا قرآن کے میدان میں قتل مرتد کے دعویداروں نے ہزیمت اٹھائی ایسا ہی احادیث کے میدان میں بھی اُن کو خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزیمت ہی اُٹھانی پڑی اور ہم اُن تمام ائمہ حدیث وفقہ کے لئے دعا کرتے ہیں جن کی مدد سے ہمیں یہ فتح نصیب ہوئی۔اللھم اغفر لهم وارحمهم وادخلهم في عبادك المقربين۔اب میں حامیان قتل مرتد کی خدمت میں ایک اور عرض کرتا ہوں۔اگر اُن کو باوجود ان تمام شہادتوں کے جومیں نے اوپر پیش کی ہیں اسی بات پر اصرار ہے کہ ارتداد کے لئے بلا کسی شرط کے قتل کی سزا دینی چاہئیے تو میں ان کو ایک راہ بتا تا ہوں۔اگر وہ اُس راہ پر چلیں گے تو ان کا حدیث من بدله دینه فاقتلوہ پر عمل بھی ہو جائے گا اور اُن کو اس بات کی بھی ضرورت پیش نہیں آئے گی کہ تمام قرآن شریف کو منسوخ قرار دیں۔اور وہ راہ یہ ہے کہ قتل کے معنی صرف جان سے مارڈالنا نہیں ہیں بلکہ اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ کالمقتول قرار دینا اور مُردوں میں شمار کرنا۔حضرت عمر نے سقیفہ کے دن سعد کی نسبت جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر خلافت حاصل کرنے کی کوشش کی۔فرمایا اقتــلــوا سـعــدا