قتل مرتد اور اسلام — Page 210
210 صحيح عند الجمهور۔یعنی حضرت ابن عباس کا یہ قول کہ اس آیت کریمہ میں محاربہ سے مراد شرک ہے اور عروہ کا یہ قول کہ اس آیت کریمہ میں محاربہ سے مراد ارتداد ہے جمہور (بحر المحيط جلد 3 صفحہ 471) کے نزدیک صحیح نہیں۔بندہ کی رائے میں حامیان قتل مرتد کے اس قول کی تردید میں کہ محاربہ سے مراد محض ارتداد ہے بحر المحیط کی مندرجہ بالا عبارت ہی کافی ہے۔احادیث متعلق قتل مرتد کو یکجائی نظر سے دیکھنے سے جو نتیجہ نکلتا ہے یعنی یہ کہ صرف ایسے مرتد کے قتل کا حکم ہے جو محارب ہو اس نتیجہ کی صحت کی چوتھی کسوٹی یہ ہے کہ قرآن شریف کی اس آیت کریمہ کی تفسیر کہ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ (الانعام: ۱۵۲) أَن احادیث کے ذریعہ کی جاتی ہے جن میں تین قسم کے لوگوں کے قتل کا حکم ہے اور جن کو میں او پر نقل کر چکا ہوں اور اس آیت کریمہ کی تفسیر اللہ تعالیٰ خود بھی کرتا ہے جبکہ فرماتا ہے مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا (المائدة: ۳۳) یہ دوسری آیت پہلی آیت کی تفسیر کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ بالحق سے کیا مطلب ہے یعنی دو ہی صورتوں میں کسی انسان کا قتل کرنا جائز ہوسکتا ہے۔ایک یہ کہ کسی انسان کو قصاص میں قتل کیا جاوے۔دوسرے یہ کہ وہ اس درجہ کے فساد کا مرتکب ہو جو اُس کو قتل کا مستوجب بناوے اور ظاہر ہے کہ محض ارتداد ایسا فساد نہیں کہلا سکتا جو کسی کو مستوجب قتل بنا دے۔کیونکہ اگر محض ارتداد ہی انسان کو مستوجب قتل بنا دیتا ہو تو پھر ایک کا فر بھی مستوجب قتل ٹھہرتا ہے کیونکہ دونوں کفر کے لحاظ سے یکساں ہیں۔ایک مرتد اُسی صورت میں فساد کا مرتکب کہلا سکتا ہے جبکہ وہ محارب ہو جیسا کہ بعض احادیث میں تصریح کے ساتھ اس شرط کا ذکر کیا گیا ہے۔پس قرآن شریف کا جواز قتل کو صرف دوصورتوں میں محصور کر دینا یعنی ایک قصاص کی صورت اور دوسری فساد فی الارض کی صورت ظاہر کرتا ہے کہ وہی مرتد واجب القتل ٹھہر سکتا