قتل مرتد اور اسلام — Page 209
209 اور کہا کہ میرے لئے ایک مسجد بنواؤ۔میں قیصر کے پاس جاتا ہوں اور روم سے ایک 66 لشکر لا کر محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھیوں کو نکال دوں گا۔“ پس ابو عامر کی مثال سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ محارب سے یہ مراد نہیں کہ ایک شخص اسلام کو ترک کر دے اور مسلمانوں سے کوئی سروکار نہ رکھے اور نہ کسی مسلمان کو اذیت پہنچائے بلکہ محارب سے مراد ایسا شخص ہے جو مسلمانوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو جائے اور اُن کی تخریب کے در پے ہو۔پس ایسا شخص قرآن شریف کے حکم مطابق تین سزاؤں میں سے ایک سزا کا مستحق ہے۔اُسے قتل کیا جاوے یا صلیب دیا جاوے یا اُس ملک میں سے اُسے نکال دیا جاوے۔حالات اور جرم کی کیفیت کے مطابق اُس کو سزا دی جاوے۔حامیان قتل مرتد کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ نفس ارتداد ہی کا نام محاربہ ہے یعنی جو شخص اسلام لانے کے بعد پھر کفر اختیار کرتا ہے وہ خواہ کسی مسلمان کو اذیت نہ پہنچائے اور ایک بے ضرر انسان کی طرح زندگی بسر کرے پھر بھی وہ محارب ہی کہلائے گا۔میں کہتا ہوں که اگر محض ارتداد یعنی اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرنا محاربہ ہے تو کیا وجہ ہے کہ عام کفر کو محاربہ نہ کہا جاوے۔مرتد بھی ارتداد کے بعد ایک کافر کی زندگی اختیار کر لیتا ہے اور دونوں کفر کے لحاظ سے ایک ہی حالت میں ہو جاتے ہیں۔پس اگر محض مرتد محارب ہے تو عام کا فر بھی محارب ہے کیونکہ موجودہ صورت میں دونوں مساوی ہیں۔دونوں کفر کی حالت میں ہیں اور دونوں مسلمانوں کو کسی قسم کی اذیت نہیں پہنچاتے بلکہ اُن کے ساتھ صلح کی حالت میں رہنا چاہتے ہیں۔پس کوئی وجہ نہیں کہ ایک کو اُس کے کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے اور دوسرے کو قتل نہ کیا جاوے۔محض ارتداد کو محاربہ قرار دینا ایک زبر دستی ہے۔جب تک اُس سے کوئی ایسا فعل سرزد نہ ہو جو محار بہ کہلا سکے اس کو محارب نہیں کہہ سکتے۔بحرالمحیط میں لکھا ہےوقول ابن عباس، المحاربة هنا الشّرك وقول عروة الارتداد غير