قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 202 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 202

202 اپنی کتاب کامل میں اس حدیث کو نقل کر کے لکھا ہے عبداللہ بن اذینہ منکر الحدیث ہے اور جو حدیث حضرت عائشہ کی طرف منسوب کر کے بیان کی گئی ہے اُس کے راویوں کے سلسلہ میں محمد بن عبد الملک انصاری ہے اور اس کے متعلق عبداللہ بن احمد نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے کہ اُس نے کہا کہ میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ اندھا تھا اور حدیثیں خود گڑھا کرتا تھا اور جھوٹ بولا کرتا تھا اور بخاری نے اس کو منکر الحدیث قرار دیا ہے اور نسائی نے اس کو متروک کہا ہے۔( حاشیہ ہدایہ جلد 2 صفحہ 355 ) اب یہ حال ہے ان روایات کا جن کو قرآن شریف کی تعلیم کو رڈ کرنے کے لئے پیش کیا جاتا ہے۔ایسی روایات کا پیش کرنا ہی ظاہر کرتا ہے کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں کوئی مضبوط چیز نہیں۔اس لئے ایسے چھوٹے ہتھیاروں پر اُتر آئے ہیں۔اس کے مقابل میں بخاری کی حدیث کو دیکھو جس میں ایک صحابی قسم کھا کر کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (۱) محارب (۲) زانی محصن (۳) قاتل نفس کے سوا کسی شخص کو قل نہیں کروایا۔یہ حدیث میں اوپر نقل کر چکا ہوں۔پھر تعلیق المغنی شرح دار قطنی صفحہ 339 میں لکھا ہے ونقل ابن طلاع في الأحكام أنَّه لم ينقل عن النبي صلعم انه قتل مرتدة۔یعنی ابن طلاع نے احکام میں لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ مروی نہیں کہ آپ نے کبھی کسی مرتد عورت کو قتل کروایا ہو اور جن مردوں کی نسبت ایسا بیان کیا گیا ہے اُن کی نسبت میں ثابت کر چکا ہوں کہ ان کو امداد کے لئے نہیں بلکہ اُن کے دوسرے جرموں کی وجہ سے قتل کیا گیا۔یہاں یہ بیان کر دینا بھی خالی از فائدہ نہ ہوگا کہ جابر کی ایک روایت میں اُس مرتد کا نام بھی بیان کیا گیا ہے کہ اُس کا نام ام مروان تھا۔اور اس اتم مروان کی نسبت مبسوط