قتل مرتد اور اسلام — Page 203
203 جلد 10 صفحہ 110 میں لکھا ہے۔فان أم مروان كانت تقاتل وتحرض على القتال وكانت مطاعة فيهم۔یعنی اتم مروان مسلمانوں کے ساتھ جنگ کیا کرتی تھی اور دوسرے لوگوں کو جنگ کے لئے اکسایا کرتی تھی اور وہ اپنی قوم کی لیڈر تھی۔پس اگر ہم مان بھی لیں کہ اتم مروان کو قتل کیا گیا تو اُس کو ارتداد کیلئے قتل نہیں کیا گیا بلکہ اس لئے کہ وہ محاربت تھی۔اب ناظرین نے دیکھ لیا کہ قتل مرتد کے حامی تاریخ اسلام سے ایک واقعہ بھی ایسا پیش نہیں کر سکتے جس میں یہ ثابت ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی مرتد مرد یا مرتدہ عورت کو محض ارتداد کے لئے قتل کیا ہو۔بلکہ اگر کسی مرتد یا مرتدہ کو قتل کیا ہے تو اُس کو ارتداد کی وجہ سے قتل نہیں کیا بلکہ اس لئے قتل کیا کہ وہ محارب تھے۔غرض اس میدان سے تو قتل مرتد کے حامی خائب و خاسر لوٹتے ہیں اور فتح کا جھنڈا ہمارے ہاتھ میں ہے۔اب ہم دوسرے میدان میں اُترتے ہیں یعنی قولی حدیث کی طرف رجوع کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اس میدان میں بھی وہ ہماری اسی طرح ( بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ) یاوری فرمادے جس طرح کہ اس وقت تک وہ اپنے فضل ورحم سے ہماری دستگیری فرما تا رہا ہے۔قولی احادیث کے متعلق یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ ہماے مخالفوں نے اس مضمون کی تمام احادیث کو یکجائی طور پر نہیں لیا بلکہ صرف ایک حصہ نقل کیا ہے اور دوسرا حصہ نظر انداز کر دیا ہے اور اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ دوسری احادیث اُن کی نظر سے مخفی تھیں۔بلکہ اس لئے کہ اُن کے نقل کرنے سے حقیقت منکشف ہو جاتی تھی اور حقیقت کا انکشاف اُن کا تمام تانا بانا درہم برہم کر دیتا تھا۔اس لئے انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ تصویر کا ایک رُخ ناظرین کو دکھائیں اور دوسرا رُخ اُن کی آنکھوں سے اوجھل کر دیں تا کہ وہ تصویر کا صحیح نقشہ اپنی آنکھوں کے سامنے نہ لاسکیں۔قتل مرتد کے متعلق قولی احادیث کو میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ان تمام احادیث