قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 201 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 201

201 سزادی۔ایک دو نا قابل اعتبار روایات کسی بے نام ونشان عورت کے متعلق حامیان قتل کو کہیں سے مل گئی ہیں اور انہی کو غنیمت سمجھا ہے اور بغیر چھان بین کے صرف رعب ڈالنے کے لئے ان کو پیش کر دیا ہے۔وہ روایات یہ ہیں۔اوّل: عن جابر قال ارتدت امرءة عن الاسلام فأمر النبي صلعم ان يعرضوا عليها الاسلام فان اسلمت والا قتلت فعرض عليها الاسلام فأبت ان تسلم فقتلت۔دوم: عن عائشة قالت ارتدت امرأة يوم احد فأمر النبي صلعم ان تُستاب فان عادت والا قتلت۔ان روایات کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ یہ دونوں روایات ضعیف الاسناد ہیں۔لان في حديث جابر عبدالله بن اذينه جرحه ابن حبّان وقال لايجوز الاحتجاج به بحال و قال الدار قطنى فى المؤتلف والمختلف متروك۔رواه ابن عدي في كامله وقال عبدالله بن اذينه منكر الحديث ( حاشیہ ھدایہ صفحہ 354 ) - مطبع نولکشور محتشی بحاشیہ مولوی محمد حسن سنبلی ) وفي حديث عائشة محمد بن عبد الملك الانصاري قال عبدالله بن احمد عن ابيه انى قد رأيت هذا وكان اعلى يضع الحديث ويكذب وقال البخارى منكر الحديث وقال النسائي متروك۔(حاشیہ ھدایہ جلد 2 صفحہ 355 ) یعنی پہلی حدیث کے راویوں کے سلسلہ میں عبداللہ بن اذینہ ہے جس پر ابن حبان نے جرح کی ہے اور کہا ہے کہ کسی صورت میں بھی جائز نہیں کہ ایسی حدیث کو دلیل کے طور پر پیش کیا جائے جس کے راویوں کے سلسلہ میں عبداللہ بن از بینہ ہو اور دارقطنی نے اس کو الموتلف اور المختلف میں عبداللہ بن اذینہ کی نسبت لکھا ہے کہ وہ متروک ہے۔ابن عدی نے