قتل مرتد اور اسلام — Page 192
192 کے پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں ملک سے نکال دیا جائے۔اگر یہ سز املتی تو ان کے لئے دنیا میں رسوائی کا موجب ہوتی اور آخرت میں بھی ان کے لئے بہت بڑا عذاب مقدر ہے۔قتل کی سزا ایک عبرتناک رنگ میں دی جاتی۔مگر حامیان قتل مرتد کی رائے ہے کہ ان کا فعل اس قابل نہ تھا کہ ان کو ایسی سخت سزا دی جاتی۔ان کو ایسی عبرتناک سزا دینے کی وجہ یہ تھی کہ وہ اسلام لا کر پھر مرتد ہو گئے تھے اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان پر سخت غصہ آیا۔واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ عسکل کے لوگوں کو یہ سخت سزا اس لئے نہیں دی گئی تھی کہ انہوں ارتداد اختیار کیا تھا بلکہ اس سختی کی اصل وجہ ان کے جرائم کی وحشیانہ کیفیت تھی۔مگر حامیان قتل مرتد اس سختی کو ان کے ارتداد کی طرف منسوب کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک تنگ ظرف اور تنگ خیال ملا کی شکل میں پیش کرتے ہیں کہ آپ ( نعوذ باللہ ) اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص آپ کے مذہب کو ایک دفعہ قبول کر کے پھر اس کو ترک کر دے۔اس وجہ سے آپ کا غضب عکل کے لوگوں کے خلاف بھڑ کا اور آپ نے سادہ قتل پر اکتفا نہ کیا بلکہ سخت عذاب دے کران کو مارا اور سخت عذاب دینے کی اصل وجہ ان کا ارتداد ہی تھا۔افسوس ہے ان لوگوں پر کہ کس طرح یہ لوگ اپنے نفسانی جذبات کی پیروی کر کے آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو ایک قابل اعتراض پیرایہ میں پیش کرنے سے باز نہیں آتے۔جس وحشیانہ رنگ میں شکل کے لوگوں نے ان جرائم کا ارتکاب کیا وہ ہر ایک انصاف پسند انسان کے نزدیک ان کو اس عبرتناک سزا کا مستحق بنانے کے لئے کافی سے بھی زیادہ ہے اور اس امر کی ہر گز ضرورت نہیں کہ ان کی سختی کو ان کے ارتداد کی طرف منسوب کیا جائے۔لیکن اگر حامیان قتل مرتد کو اس سے تسلی نہیں ہوتی تو میں عکل کے