قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 148 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 148

148 میں ذرہ بھی تامل نہ ہوتا۔اس جگہ میں مولوی ظفر علی خان صاحب کی خدمت میں یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کسی بزرگ کی نسبت جو مامور نہ ہو یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ ہر ایک امر دینی میں غلطیوں سے پاک تھے اور یہ ناممکن ہے کہ ان سے کوئی غلطی خواہ اجتہادی ہی کیوں نہ ہو سرزد ہو اور اس لئے جو کچھ انہوں نے فرمایا وہ راست اور درست ہے اِتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ آربابا (التوبة : 31) کا اپنے آپ کو مصداق بنانا ہے۔اگر چہ آیت زیر بحث ایسی صاف اور تین ہے کہ اس کی وضاحت کے لئے تفاسیر کے اقوال کو پیش کرنے کی کچھ بھی ضرورت نہیں اور یہ آیت کریمہ اس حاجت سے مستغنی ہے کہ اس کے مفہوم کو واضح کرنے کے لئے علماء اسلام کی تفاسیر پیش کی جائیں۔لیکن مزید اتمام حجت کے لئے میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس آیت کریمہ کے متعلق بعض تفاسیر سے بھی کچھ اقتباس نقل کروں تا حامیان قتل مرتد کو موازنہ کرنے کا موقع ملے اور وہ اپنی عقل خداداد سے کام لے کر یہ فیصلہ کرسکیں کہ لا اکراہ فی الدین کے یقینی اور قطعی معنے کیا ہیں۔پہلے میں اس آیت کے شان نزول کے متعلق جو روایات ہیں وہ نقل کرتا ہوں۔شان نزول سے بھی حامیان قتل مرتد کو اس آیت کے صحیح مفہوم کے متعلق رائے قائم کرنے میں مدد ملے گی۔(۱) لباب النقول فى اسباب النزول بر حاشیه جلالین مطبوعه مصر جلد اول صفحہ ۵۰ میں لکھا ہے:۔دو روی ابوداؤد و نسائی و ابن حبان عن ابن عباس قال كانت المرءة مقلاة فتجعل على نفسها ان عاش لها ولد ان تهوده فلما اجليت بنو النضير كان فيهم من ابناء الانصار فقالوا لاندع ابناء نا فانزل الله لا اکراه فی الدین“