قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 149 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 149

149 مدینہ کی عورتوں میں یہ رسم تھی کہ جس عورت کی اولاد کم ہوتی تھی تو وہ یہ نذر مانتی تھی کہ اگر اس کا بیٹا زندہ رہا تو وہ اس کو یہودی بنادے گی۔اور جب بنو نضیر کے متعلق جلا وطنی کا حکم ہوا تو ان میں انصار کے بیٹے بھی تھے۔انصار نے کہا کہ ہم اپنے بیٹوں کو نہیں چھوڑیں گے۔تب یہ آیت اتری کہ لا اکراہ فی الدین۔(۲) اخرج سعيد بن منصور وعبدالله ابن حمید و ابن جریر و ابن المنذر والبيهقي عن سعيد ابن جبير في قوله لا اکراه فی الدین۔قال نزلت في الانصار خاصة قلت خاصة قال خاصة كانت المرءة منهم اذا كانت نزورة او مقلات تنذر لين ولدت ولدا لنجعلنه في اليهود تلتمس بذلك طول بقاءه فجاء الاسلام وفيهم منهم۔فلما اجليت النضير قالت الانصار يا رسول الله ابناء نا واخواننا فيهم فسكت عنهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فنزلت لا اكراه في الدين“ (در منثور جلد ا صفحه ۳۲۹) سعید نے کہا کہ آیت لا اکراہ فی الدین خصوصیت کے ساتھ انصار کے بارہ میں نازل ہوئی۔میں نے پوچھا۔کیا خصوصیت کے ساتھ انصار کے بارہ میں یہ آیت نازل ہوئی ؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں خصوصیت کے ساتھ انہی کے بارہ میں یہ آیت اتری۔جب کسی انصار کی عورت کی اولاد کم ہوتی تو وہ نذر مانتی تھی کہ اگر اس کے ہاں بیٹا ہوتو وہ اس کو یہود میں داخل کر دے گی اور اس سے اس کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ یہ بیٹا زندہ رہے۔جب اسلام آیا اس وقت یہود میں انصار کی اولا د موجود تھی۔جب بنو نضیر کو جلا وطنی کا حکم ملا تو انصار نے کہا کہ اے خدا کے رسول ہمارے بیٹے اور ہمارے بھائی یہود میں موجود ہیں۔آپ خاموش ہو گئے۔تب یہ آیت نازل ہوئی۔لَا إِكْرَاهَ فِی الدِّينِ۔(۳) عن مجاهد قال كان ناس من الانصار مسترضعين في بني