قتل مرتد اور اسلام — Page 147
147 سے اس آیت کی طرف منسوب کیا گیا ہے کوئی تعجب کی بات نہیں۔اور اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہئیے کہ اس آیت کے الفاظ کافی واضح نہیں تھے اور ان میں اس امر کی گنجائش تھی کہ کوئی دوسرے معنے جو حقیقی معنوں سے بالکل متضاد تھے ان کی طرف منسوب کئے جاتے۔اس امر کے متعلق ہمیں ذرا بھی تعجب نہیں رہتا جب ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے مفسروں نے ایک غلط عقیدہ سے متاثر ہوکر لفظ توفی کے ایسے معنے کئے جو کبھی بھی اس لفظ کی طرف منسوب نہیں کئے گئے تھے۔لغت بلا اختلاف کہتی ہے کہ تَوفَّی اللہ زَيْدًا کے معنے سوائے قبض روح کے اور کوئی نہیں۔قرآن شریف میں جہاں جہاں یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہاں سوائے قبض روح کے اور کوئی معنے نہیں۔حدیث میں بھی یہی معنے ہیں۔کلام عرب میں بھی یہی معنے ہیں۔لیکن باوجود اس عالمگیر اتفاق کے جب یہی لفظ ایک سے زیادہ دفعہ حضرت عیسی علیہ السلام کے متعلق قرآن شریف میں استعمال ہوا تو اپنے اس غلط عقیدہ سے متأثر ہو کر کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام زندہ آسمان پر اٹھائے گئے لفظ توفی کے وہ معنی کئے جو دنیا جہان میں کسی نے نہیں کئے تھے۔خود قرآن شریف میں وہی لفظ بار بار آتا ہے وہاں اس کے معنے قبض روح کے لیتے ہیں لیکن جب اسی کتاب میں وہی لفظ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت استعمال ہوتا ہے تو ان کا عقیدہ ان کو اجازت نہیں دیتا کہ اس لفظ کے وہی معنے کریں جو ہر دوسرے مقام میں کئے جاتے ہیں اس لئے وہ ایک نئے معنے اپنی طرف سے تراش کر اس لفظ کو دیتے ہیں۔پس اس مثال کے ہوتے ہوئے اگر ایک عقیدہ کے ماتحت آیت لا اکراہ فی الدین کی طرف کوئی نئے معنے منسوب کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے ہر گز تعجب نہیں کرنا چاہیئے۔ہاں اگر یہ بزرگ حضرت مسیح موعود کا زمانہ پاتے اور اس ظلم و عدل کا کلام سنتے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانہ میں ایسی غلطیوں سے اسلام کو پاک کرنے کے لئے مبعوث فرمایا تو یقیناً وہ اول المومنین میں ہوتے اور ان کو اپنی غلط فہمیوں سے دست بردار ہونے