قتل مرتد اور اسلام — Page 249
249 کے دوسرے تمام استدلات باطل ہیں۔خوارج کو نہ حضرت علیؓ نے مرتد قرار دیا اور نہ دوسرے صحابہ نے۔اور حضرت علی نے ان کے اعتقادات کی وجہ سے ان کیساتھ لڑائی نہیں کی بلکہ ان کی خونریزی کی وجہ سے۔دوسرا واقعہ جو قتل مرتد کی تائید میں پیش کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت علی نے بعض زنادقہ کو جو ان کو خدا کہتے تھے آگ میں ڈال کر جلایا اور اس کی تائید میں مندرجہ ذیل روایت پیش کی جاتی ہے۔عن عكرمة قال اتى على زنادقة فاحرقهم يعنى حضرت علی زنادقہ کے پاس گئے اور ان کو آگ میں ڈال کر جلا دیا۔اس روایت کی بناء عکرمہ کے بیان پر ہے جو حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام تھے اور اس میں حضرت علیؓ پر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کے خلاف کہ لا تعذبوا بعذاب الله یعنی جس چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ عذاب دیتا ہے اس کے ساتھ تم کسی کو عذاب نہ دو۔بعض آدمیوں کو اس لئے آگ میں ڈال کر جلا دیا کہ وہ ان کو خدا مانتے تھے۔چنانچہ اسی روایت میں عکرمہ بیان کرتا ہے کہ جب یہ خبر حضرت ابن عباس کو پہنچی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو ان لوگوں کو ہرگز نہ جلا تا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ کسی کو آگ کے ساتھ عذاب دیا جاوے۔پس اگر اس روایت کو درست مانا جاوے تو ماننا پڑتا ہے کہ حضرت علیؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی نعوذ باللہ خلاف ورزی کی اور یہ امر ہم کبھی بھی حضرت علی جیسے انسان کے لئے ایک لمحہ کے لئے بھی تسلیم نہیں کر سکتے۔حضرت علی بچپن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔اس وقت حضرت ابن عباس پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جبکہ حضرت علی کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبول اسلام بخشا اور آپ نے خود حضرت علی کی پرورش اور تربیت فرمائی۔اور جو قرب حضرت علی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل رہا وہ کبھی حضرت ابن عباس کو حاصل نہیں ہوا۔پس ہم اس بات کو ہر گز قبول نہیں کر سکتے کہ حضرت علی محضرت ابن عباس سے اپنے علم