قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 248 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 248

248 انهم كانوا يصلون خلفهم وكان عبدالله بن عمرو غيره من الصحابة كانوا يصلون خلف نجدة الحرورى وكانوا أيضا يحدثونهم ويفتونهم ويخاطبونهـم كـمـا يخاطب المسلم المسلم۔۔۔۔وما زالت سيرة المسلمين على هذا ما جعلوهم مرتدين كالذين قاتلهم الصديق رضي الله عنه۔۔۔۔ومع هذا فالصحابة والتابعون لهم باحسان لم يكفروا هم ولا جعلوهم مرتدين ولا اعتدوا عليهم بقول ولا فعل بل اتقوا الله فيهم وساروا فيهم سيرة العادلة۔یعنی اشعری وغیرہ نے کہا کہ حضرت علی کی تکفیر پر تمام خوارج کا اجتماع ہے۔مگر باوجود اس کے حضرت علیؓ نے بالصراحت بیان کیا ہے کہ وہ مومن ہیں کا فرنہیں اور نہ منافق ہیں۔۔۔اور اس بات کی ایک دلیل کہ صحابہ خوارج کو کافر نہیں کہتے تھے یہ ہے کہ وہ خوارج کے پیچھے نماز پڑھ لیتے تھے اور حضرت عبداللہ بن عمر اور دوسرے صحابہ نجدة الحروری کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتے تھے اور نیز ان کو احادیث سناتے تھے اور ان کو فتوی دیتے تھے اور ان سے اسی طرح خطاب کرتے تھے جس طرح ایک مسلمان ے مسلمان سے مخاطب ہوتا ہے۔۔۔۔اور مسلمان ان سے ہمیشہ ایسا ہی معاملہ کرتے رہے ہیں انہوں نے ان مرتدین کی طرح ان کو نہیں سمجھا جن سے حضرت صدیق نے قبال کیا۔۔۔صحابہ اور تابعین نے ان کو کافر قرار نہیں دیا اور نہ ان کو مرتد ٹھہرایا اور نہ ان پر زبان سے یا ہاتھ سے کسی طرح کی زیادتی کی بلکہ ان کے بارے میں تقوی سے کام لیتے رہے اور ان کے ساتھ عدل کا معاملہ کیا۔دوسرے اس تمام بحث سے یہ امر بپایہ ثبوت پہنچ جاتا ہے کہ قتل مرتد کے دعویداروں کا خوارج کے واقعہ سے اپنے دعوای کی تائید میں استدلال کرنا ایسا ہی باطل ہے جیسا کہ ان