قتل مرتد اور اسلام — Page 19
19 اندر تم واپس اسلام میں داخل نہ ہو گئے تو تمہیں قتل کیا جائے گا۔کیا یہی طریق ہے جو قرآن شریف کی آیات سے مستنبط ہوتا ہے؟ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے قرآن شریف کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو حق کے قبول کرنے کی توفیق دینا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔کوئی شخص خواہ کتنا ہی کسی کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرے جب تک اللہ تعالیٰ کسی کے سینہ کو اسلام کے قبول کرنے کے لئے نہ کھول دے وہ اسے قبول نہیں کر سکتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ (الانعام: 126) جس شخص کے متعلق خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اسے راہِ راست دکھائے اس کے سینہ کو قبول اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔پھر فرماتا ہے:۔إِنَّكَ لَا تَهْدِى مَنْ اَحْبَبْتَ وَلكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (القصص:57) اپنی خواہش کے مطابق تم جس کو چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہی راہ پر آنے والوں کے حال سے خوب واقف ہے۔غرض قرآن شریف کی مندرجہ بالا اور اسی مضمون کی اور بہت سی آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہدایت ایک ایسی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ اس کی توفیق دینا چاہتا ہے اس کے سینہ کو کھول دیتا ہے۔پس ثابت ہوا کہ کسی کو اسلام میں داخل کرنا ہمارے اختیار میں نہیں۔یہ دل کا فعل ہے اور کسی تلوار کی دھار اس دل تک نہیں پہنچ سکتی جس کے ساتھ اسلام لانے یا نہ لانے کا تعلق ہے۔وہ دل انسانی زد سے