قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 20 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 20

20 بہت دور ہے نہ وہاں انسانی تلوار کام کر سکتی ہے اور نہ بندوق۔کوئی ہاتھ نہیں جو اس دل کو پھیر سکے اور کوئی ہتھیار نہیں جو اس پر اثر کر سکے۔ہاں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ اگر چہ ہدایت ہمارے اختیار میں نہیں لیکن ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم اسباب سے کام لیں۔نتائج کا مرتب کرنا بے شک خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔لیکن اس کے یہ معنے نہیں کہ ہم تدبیر اور سعی کے فرض سے سبکدوش ہو گئے۔ہاں بے شک تم نے سچ کہا مجھے اس امر سے پورا اتفاق ہے اگر چہ ہدایت پانے کی توفیق دینا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے مگر ہمارا بھی فرض ہے کہ ہم لوگوں کو راہ راست پر لانے کی کوشش کریں۔مگر مجھے بتاؤ وہ کون سے ذرائع ہیں جو کسی کو حق کی طرف راہنمائی کرنے کے لئے استعمال کئے جا سکتے ہیں؟ وہ کونسی نشتر ہے جو آنکھوں کے پردوں کو چی سکتی ہے؟ وہ کس توپ کی گرج ہے جو کانوں کی گرانی کو دور کر سکتی ہے؟ وہ کونسی تلوار ہے جو دل کی بند کھڑکی کو کھول سکتی ہے؟ کیا وہی تلوار جس کی نسبت مولوی شبیر حسین صاحب دیو بندی فرماتے ہیں کہ اخر الحيل السيف اور جس کی نسبت مولوی ظفر علی صاحب لکھتے ہیں کہ قرآن میں اس کو تلاش کرنا فضول ہے۔اس کو ڈھونڈ نا ہوتو کابل کے اسلحہ خانہ میں تلاش کرو۔اے اسلام کو بدنام کرنے والے مولویو! بتاؤ کیا یہی تلوار دلوں کے بند قلعوں کو فتح کر سکتی ہے؟ کیا دلوں کے قفل کھولنے والی یہی چابی ہے جو تمہارے ہاتھ میں دی گئی؟ کیا تسخیر قلوب کے لئے یہی خاص تدبیر ہے جس پر تم کو ناز ہے؟ افسوس ! صد افسوس!! آؤ میں تمہیں بتاؤں وہ تلوار جس کی چوٹ دل پر لگتی ہے وہ لو ہے یا فولاد کی تلوار نہیں بلکہ وہ دلائل قاطعہ اور براہین ساطعہ کی تلوار ہے۔وہ نیزہ جو انسان کے سینہ کو چیرتا ہے وہ لکڑی اور لوہے کا نیزہ نہیں بلکہ وہ وہ نیزہ ہے جس کے چلانے کے لئے قرآن شریف کی اس آیت میں حکم دیا گیا ہے:۔