قتل مرتد اور اسلام — Page 18
18 طریق تبلیغ پھر اس طریق کو دیکھو جو اسلام کی تبلیغ کے لئے قرآن شریف سکھاتا ہے۔جب ہم قرآن شریف پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صاف معلوم ہوتا ہے کہ جیسا خود وہ اپنے اصول اور احکام کی خوبی اور کمال کو ظاہر کرنے کے لئے حکیمانہ طریق اختیار کرتا ہے اور دلائل قویہ اور بج نیرہ کے ذریعہ اپنی تعلیم کی خوبی لوگوں کے ذہن نشین کرتا ہے ایسا ہی مبلغین اسلام کو بھی یہی ہدایت دیتا ہے کہ وہ نہایت ہی احسن طریق سے لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں۔وہ اپنے پیروؤں کو یہ نہیں سکھا تا کہ تم جابرانہ اور قاہرانہ طریق سے اسلام کی اشاعت کرو بلکہ وہ یہ کہتا ہے کہ حکمت اور موعظہ حسنہ کے ذریعہ تم لوگوں کو اسلام کی طرف بلاؤ۔چنانچہ سورۃ النحل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔اُدْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبَّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 126) لوگوں کو حکیمانہ طریق سے اور اچھی اچھی نصیحتوں سے اپنے پروردگار کے رستہ کی طرف بلاؤ اور ان کے ساتھ بحث ایسے طور پر کرو کہ وہ لوگوں کے نزدیک بہت ہی پسندیدہ ہو۔پھر اللہ تعالیٰ اہل کتاب کا ذکر کر کے فرماتا ہے:۔وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتُبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (العنكبوت: 47) اہل کتاب کے ساتھ جھگڑا نہ کیا کرو مگر ایسے طریق سے جو نہایت ہی احسن ہو۔مندرجہ بالا آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ مسلمان جب اپنے دین کی تبلیغ کریں تو نہایت ہی احسن طریق اختیار کریں اور نہایت ہی نرمی اور رافت اور ہمدردی کے ساتھ لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں۔اب بتلاؤ کسی کو یہ کہنا کہ تم اسلام میں داخل ہو جاؤ ورنہ زیادہ سے زیادہ تم کو تین دن کی مہلت دی جاتی ہے اگر اس عرصہ کے