قتل مرتد اور اسلام — Page 208
208 ضرورت نہیں۔قرآن شریف نے خود اس کا فیصلہ فرما دیا ہے۔سورۃ توبہ میں اللہ تعالیٰ ایک محارب کا ذکر کرتا ہے۔اس مثال سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ محارب کا کیا مفہوم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَكُفْرًا وَتَفْرِيقًا بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ وَارْصَادًا لِمَنْ حَارَبَ الله وَرَسُولَهُ مِنْ قَبْلُ وَلَيَحْلِفُ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا الْحُسْنَى (التوبة: 107) اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد نقصان پہنچانے اور کفر کی تبلیغ کرنے اور مومنوں میں تفرقہ پیدا کرنے کے لئے بنائی ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے لڑ چکا ہے اس کے لئے کمین گاہ مہیا کرنے کے لئے۔وہ ضرور قسم کھائیں گے کہ اس مسجد کے بنانے سے ہمارا ارادہ صرف نیکی کرنا تھا۔تاریخ سے ثابت ہے جس شخص کا آیت کریمہ میں ذکر ہے اور جس کو من حارب الله ورسوله کا خطاب دیا گیا ہے وہ ابو عامر راہب تھا۔درمنثور جلد ۳ صفحہ ۲۷۶ میں لکھا ہے۔عن مجاهد في قوله والذين اتخذوا مسجدًا قال المنافقون وفى قوله وارصادا لمن حارب الله و رسوله قال لأبي عامر الراهب۔یہ ابی عامر راہب کیسا شخص تھا۔اس کے لئے بحر محیط جلد 5 صفحہ 98 کی مندرجہ ذیل عبارت ملاحظہ فرماویں۔وحرضهم ابو عمرو الفاسق على بنائه حين نزل الشام هاربًا من وقعة حنين فراسلهم في بنائه وقال ابنوا لي مسجدا فاني ذاهب الى قیصراتي بجند من الروم فاخرج محمدا و اصحابه۔ابو عمرو فاسق جب حنین کی لڑائی کے بعد بھاگ کر شام گیا تو اُس نے مدینہ کے منافقوں کو اس مسجد کے بنانے کی ترغیب دی اور اس کے متعلق اُن سے خط و کتابت کی