قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 207 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 207

207 بھی جس کسوٹی پر چاہو پر کھ کر دیکھ لو یہ ہر رنگ میں صحیح اور درست ثابت ہوگا۔اس نتیجہ کی صحت کی پہلی کسوٹی یہ ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بالکل مطابق ہے۔تاریخ اسلام سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک مرتد کو قتل کی سزا نہیں دی بلکہ صرف ایسے مرتدین کو قتل کی سزادی جو محارب تھے جیسے عسکل یا عرینہ کے لوگ ،ابن خطل مقیس بن صبابہ۔پس یہ نتیجہ اس لئے درست ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے عین مطابق ہے۔اس نتیجہ کی صحت کی دوسری کسوٹی یہ ہے کہ یہ قرآن شریف کی عام تعلیم اور روح کے عین مطابق ہے۔کیونکہ جیسا میں مفصل طور پر ثابت کر چکا ہوں کسی شخص کو محض ارتداد کے لئے قتل کرنا قرآن شریف کی تمام تعلیم کے خلاف ہے۔اس نتیجہ کی صحت کی تیسری کسوٹی یہ ہے کہ اگر مرتد کے قتل کے لئے محارب کی شرط کو لازم ٹھہرایا جائے تو یہ حکم قرآن شریف کی ایک صریح آیت کے ماتحت آ جاتا ہے۔جو اس کے صحیح ہونے کا ایک یقینی ثبوت ہے۔اور ہمیں حامیان قتل مرتد کی طرح یہ نہیں کہنا پڑتا کہ قرآن شریف اس مسئلہ پر ساکت ہے اور وہ آیت جس سے مرتد کا محارب ہونے کی وجہ سے قتل ثابت ہوتا ہے یہ ہے۔إنَّمَا جَزَوا الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ أو يُنْقَوامِنَ الْأَرْضِ (المائدة:34) جولوگ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور فساد کی غرض سے ملک میں جنگ کی آگ بھڑ کانے کے لئے دوڑتے پھرتے ہیں۔ان کی مناسب سزا یہی ہے کہ ان میں سے ایک ایک کو قتل کیا جائے یا صلیب پر لٹکا کر مارا جائے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیئے جائیں۔یا انہیں ملک سے نکال دیا جائے۔اور یہ کہ قرآن شریف کے رو سے محارب کسے کہتے ہیں اس کے لئے ہمیں کسی لمبی بحث کی