قتل مرتد اور اسلام — Page 168
168 نہیں ہے۔چوتھا عذر حامیان قتل مرتد نے قرآن شریف کے معیار سے گریز کرنے کے لئے یہ اختیار کیا ہے کہ ہر زید و بکر کے فہم کو فیصلہ کا معیار نہیں مانا جاسکتا۔ایک شخص کے نزدیک ایک حدیث معارض قرآن ہوتی ہے دوسرے کے نزدیک وہ معارض قرآن نہیں ہوتی۔اس اختلاف کی موجودگی میں دواوین حدیث کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔چونکہ مرتد کو محض ارتداد کے لئے قتل کرنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس کو نہ صرف قرآن شریف رڈ کرتا ہے بلکہ عقل سلیم بھی اس کو دھکے دیتی ہے۔اس لئے حامیان قتل مرتد جیسے قرآن شریف کے معیار سے کوسوں دور بھاگتے ہیں۔ایسا ہی عقل سلیم کے فتویٰ کا بھی ان کے دل میں بہت خوف بیٹھا ہوا ہے اس لئے یہ دونوں سے کنارہ کشی کرتے ہیں۔مگر مشکل یہ ہے کہ یہ دونوں ایسی چیزیں ہیں کہ ان کے بغیر چارہ نہیں۔قرآن شریف چھوڑنے سے تو اسلام کا کچھ باقی نہیں رہتا۔اور عقل کو جواب دینے سے خود علماء بے دست و پا ہو جاتے ہیں کیونکہ اگر عقل کو بالائے طاق رکھ دیا جائے تو تحقیق کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔بیشک ہمارے دین کا دارو مدار سارا قرآن شریف پر ہے اور صحیح احادیث بھی ایک بیش قیمت خزینہ ہے جو ہماری روح کی غذا ہے اور دین کے سمجھنے میں ہمیں اس سے بڑی مدد ملتی ہے۔اور بہت سی تفاصیل ہیں جو ہمیں احادیث کے ذریعہ حاصل ہوتی ہیں۔لیکن قرآن شریف اور احادیث پر تدبر اور غور کرتے وقت ہمیں عقل سے ہی کام لینا پڑتا ہے۔اگر عقل سے کام نہ لیا جاوے تو ایک دم بھی گزارہ نہیں ہوسکتا۔خود احادیث صحیحہ میں اختلاف ہوتا ہے اور اس وقت ہمیں صحیح فیصلہ پر پہنچنے کے لئے عقل کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔احادیث اور آیات کا صحیح مفہوم سمجھنے کیلئے ہم کو عقل خدا داد سے کام لینا پڑتا ہے۔پس عقل کو جواب نہیں دیا جا سکتا۔اگر عقل ایسی گمراہ کن چیز تھی تو ہمیں بار بار قرآن شریف کی آیات پر تدبر کرنے کی کیوں تاکید کی جاتی ہے؟ حامیان قتل مرتد پوچھتے ہیں کہ