قتل مرتد اور اسلام

by Other Authors

Page 169 of 273

قتل مرتد اور اسلام — Page 169

169 ہم کسی عقل سے معلوم کریں کہ آیت اور حدیث میں تعارض ہے یا نہیں؟ میں کہتا ہوں کہ ہم اسی عقل سے معلوم کریں گے جس کے ذریعہ دو متعارض احادیث میں ہم تعارض معلوم کر سکتے ہیں۔اگر ہماری عقل دو متعارض احادیث میں تعارض معلوم کرسکتی ہے تو وہ حدیث اور آیت میں بھی تعارض معلوم کر سکتی ہے۔حامیان قتل مرتد فرماتے ہیں کہ ایک شخص کی عقل کہتی ہے کہ فلاں حدیث آیت قرآنی کے متعارض ہے اور دوسرے کی عقل کہتی ہے کہ نہیں کوئی تعارض نہیں اب کس طرح فیصلہ کیا جاوے کہ کس کی عقل درست کہتی ہے اور کسی کی غلط ہے۔میں کہتا ہوں کہ اس کا اسی طرح فیصلہ ہوگا جس طرح کہ ایسے موقعوں پر ہمیشہ فیصلہ کیا جاتا ہے۔دونوں فریق اپنے اپنے دلائل پیش کریں گے اور پبلک خود فیصلہ کر لے گی کہ کس کے دلائل مضبوط ہیں اور کس کے کمزور ؟ پھر حامیان قتل مرتد فرماتے ہیں کہ اختلاف رائے کی وجہ سے دواوین حدیث کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔میں پوچھتا ہوں کہ کیا پہلے اختلاف رائے موجود نہیں ہے؟ پھر کیا اس اختلاف کے ہوتے ہوئے دواوین حدیث کی حیثیت زائل ہوگئی ہے؟ اگر پہلے اختلاف کی وجہ سے دواوین حدیث کی حیثیت قائم ہے تو پھر بعد کے اختلاف سے بھی ان کی حیثیت زائل نہیں ہو سکتی۔دواوین حدیث تو ایک ذخیرہ ہیں جو تحقیق کے لئے بطور مصالح کے کام دیتے ہیں۔محدثین کا خود اصول ہے کہ اجتہاد کا دروازہ بند نہیں ہوا بلکہ ان کے نزدیک اجتہاد کا اب بھی حق حاصل ہے۔پس اجتہاد اور تحقیق کا باب مسدود نہیں ہوا اور احادیث کو قرآن شریف پر عرض کرنا یہ بھی ایک تحقیقات کا ذریعہ ہے۔اس سے احادیث کا ذخیرہ بے کار نہیں ہو جاتا۔کیا جب دو صحیح احادیث آپس میں متعارض ہوں ایک کو دوسری پر ترجیح نہیں دی جاتی ؟ پھر اگر کوئی حدیث قرآن شریف کی آیات کے مخالف ہو اور قرآن شریف کو حدیث پر ترجیح دی جائے تو اس میں دواوین حدیث کی کون سی ہتک لازم آتی ہے؟