قتل مرتد اور اسلام — Page 167
167 ہو تو اس سے قیاس مقدم ہے۔علماء حنیفہ خبر واحد سے گووہ بخاری اور مسلم کی ہو قرآن کے کسی حکم کو ترک نہیں کرتے۔علامہ تفتازانی اپنی کتاب تلویح میں لکھتے ہیں۔انما خبر الواحد يردّ من معارضة الكتاب واتفق اهل الحق على ان كتـاب الـلـه مـقـدم على كل قول فَإِنّه كتاب أحكمت آيَاتُهُ لا يَأْتِيهِ الباطل من بين يديه ولا من خلفه وقد حفظه الله وعصمه وما مسه ايدى الناس وما اختلط فيه شيء من اقوال المخلوقين ،، یعنی خبر واحد اگر کتاب اللہ کے معارض ہو تو اسے رد کر دیا جاتا ہے۔اور اہل حق کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کتاب اللہ ہر ایک قول پر مقدم ہے۔کیونکہ یہ ایسی کتاب ہے جس میں باطل کو کچھ دخل نہیں اور اللہ جل شانہ نے اس کی حفاظت فرمائی اور اس کو ہر ایک قسم کی غلطی کی ملاوٹ سے بچایا ہے اور انسانوں کے ہاتھوں نے اس کو نہیں چھوا۔اور مخلوقات کے اقوال میں سے کچھ بھی کتاب اللہ میں داخل نہیں ہوا۔اب حامیان قتل مرتد بتا ئیں۔انہوں نے کہاں سے سن لیا کہ اس خیال کی اہلِ علم کے نزدیک پر کاہ کے برابر بھی وقعت نہیں کہ جو حدیث صحت کے مقرر کردہ کامل معیاروں پر پوری اترے اس کا معارض نص قرآنی ہونا اس کی پذیرائی کے مانع ہے۔کیا صحیح بخاری کی احادیث جن میں سے اکثر آحاد ہیں صحت کے کامل معیار پر پوری نہیں اترتیں؟ پھر کیا اہل فقہ ان کو معارض قرآن ہونے کی صورت میں رد نہیں کر دیتے ؟ کیا ائمہ ثلث حامیان قتل مرتد کے نزدیک اہل علم میں شامل نہیں ؟ کی علامہ تفتازانی اہل علم کے شمار میں نہیں آسکتے ؟ یہ لوگ تو قرآن شریف کو صحیح حدیث پر بھی مقدم رکھتے ہیں اور وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جو محفوظیت قرآن شریف کی آیات کو حاصل ہے وہ کسی حدیث کو حاصل نہیں اور یہ کہ قرآن شریف کی آیات میں کسی انسان کا قول داخل نہیں ہوا اور قرآن شریف انسانی دستبرد سے بالکل محفوظ اور مامون ہے۔مگر احادیث کا خواہ وہ صحت کے کیسے اعلیٰ معیار پر ہوں یہ حال