قتل مرتد اور اسلام — Page 135
135 کریں جن سے ہر ایک غور کرنے والا انسان یہ سمجھ سکے کہ قتل مرتد ایک نہایت ہی معقول حکم ہے۔اگر ان دلائل سے مسٹر گاندھی کو کچھ فائدہ نہ ہوتا تو کم از کم دوسرے انصاف پسند اور غور کرنے والے انسان تو مولوی صاحب کے زبر دست عقلی دلائل کو سن کر عش عش کر اٹھتے اور اس امر کے تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے کہ قتل مرتد واقعی ایک نہایت ہی معقول اور پسندیدہ حکم ہے۔مگر مولوی صاحب نے یہ راہ ہی اختیار نہیں کی بلکہ الٹا مسٹر گاندھی کو گالیاں دینے پر اتر آئے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمہاری عقل تو صرف ہندوستان کے معاملات میں ہمالیہ جتنی بڑی غلطیاں کرنے کی عادی ہے تم کس طرح اس حکم کی معقولیت کو سمجھ سکتے ہو۔کوئی ایسی عقل پیش کرو جو تمام کائنات انسانیت کے ساتھ معاملہ رکھتی ہو اور اس نے اپنی ساری عمر میں ایک مرتبہ بھی رائی برابر بھی غلطی نہ کی ہو۔ایسی عقل اس بات کے سمجھنے کے قابل ہوگی کہ قتل مرتد ایک نہایت ہی اعلیٰ درجہ کا حکم ہے۔“ مولوی شاکر حسین صاحب سہسوانی ایڈیٹر کا مریڈ کے اس سوال کے جواب میں کہ جب جبر کے ذریعہ کوئی مسلمان نہیں بنایا جاتا تو مسلمان رکھنے کے لئے جبر کا حکم کیوں کر دیا جاسکتا ہے۔فرماتے ہیں کہ اس حقیقت واقعی کو کیا کیا جاوے کہ اسلام کا صحیح اور نافذ حکم یہی ہے کہ اس میں کیونکر اور کیسے کی گنجائش نہیں ہے۔“ اقول مولوی صاحب اس بات کو بھول گئے ہیں کہ یہی امرتو متنازعہ فیہ ہے کہ آیا قتل مرتد اسلام کا صحیح حکم ہے یا نہیں ؟ اور اس دعوی کی تائید میں کہ یہ اسلامی حکم نہیں ہے ایڈیٹر کامریڈ نے آیت کریمہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّینِ کو پیش کیا ہے۔اب اس جرح کا یہ جواب نہیں ہو سکتا