قتل مرتد اور اسلام — Page 136
136 کہ چونکہ یہ اسلام کا ایک صحیح حکم ہے اس لئے ایڈیٹر صاحب کو اس پر جرح کرنے کا اختیار نہیں۔مولوی صاحب کے اس جواب سے اگر کچھ ثابت ہوتا ہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ مولوی صاحب فن مناظرہ سے نا آشنا ہیں۔دعویٰ اور دلیل میں فرق نہیں کر سکتے اور ایک دعوی کو بطور دلیل کے پیش کر رہے ہیں۔جب ایک امر کے متعلق دو فریق میں اختلاف ہواور وہ ہر دو اس امر کے متعلق تبادلہ خیالات کر رہے ہوں تو ایک فریق دوسرے فریق کو یہ جواب نہیں دے سکتا کہ چونکہ یہ ایک مذہبی امر ہے اس لئے اس میں عقل کو دخل نہیں ہونا چاہیئے۔اگر ایک انسان ایک مذہب کو علی وجہ البصیرت قبول کرتا ہے تو اس کے یہی معنے ہیں کہ اس نے عقل کی کسوٹی پر اسے جانچ کر دیکھ لیا ہے اور اس کو درست اور صحیح پایا ہے۔ہاں میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ جب انسان ایک مذہب کو اصولی طور پر عقلی معیار کی رو سے منجانب اللہ اور صحیح قبول کر لیتا ہے تو پھر اس کے لئے ضروری نہیں کہ تمام تفصیلات کی بھی حکمت اس کو معلوم ہو۔اس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اصولی طور پر ایک مذہب کو علی وجہ البصیرت سچا یقین کرتا ہے۔لیکن جب اسی مذہب کے دوفریق میں کوئی خاص تعلیم کے متعلق اختلاف ہو، ایک فریق ایک تعلیم کو اس مذہب کی جزو قرار دیتا ہو اور دوسرا فریق اس بات پر زور دیتا ہو کہ یہ اس مذہب کی تعلیم نہیں ہے تو ایسی صورت میں ایک فریق دوسرے فریق کو یہ جواب دے کر خاموش نہیں کر سکتا کہ یہ مذہبی امر ہے اس میں عقل کو کوئی دخل نہیں۔کیونکہ دوسرا فریق اس کو مذہبی امر تسلیم نہیں کرتا۔ایسے اختلاف کی صورت میں ضروری ہوگا کہ ہر ایک فریق اپنے دعویٰ کی تائید میں دلائل پیش کرے۔وہ دلائل عقلی بھی ہو سکتے ہیں اور نعلی بھی اور پھر نقلی دلائل کی تفسیر میں عقل کا دخل ہوگا۔ایک فریق ایک آیت یا ایک روایت کے ایک معنی کرتا ہے اور دوسرا فریق اسی آیت یا روایت کے اور معنے کرتا ہے۔ایسے موقع پر عقل ہی فیصلہ کرے گی کہ کس کے معنے درست اور صحیح ہیں۔ناظرین ہر دو فریق کے دلائل پر غور کریں