قتل مرتد اور اسلام — Page 134
134 صرف ایک حکم کی معقولیت کو بھی اپنی عقل کے ذریعہ جانچ نہ سکیں۔اصل بات یہ ہے کہ عقلی معیار سے کسی خاص انسان کی شہادت مراد نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی امر کے ثبوت میں ایسے دلائل پیش کئے جاتے ہیں جو انسانی عقل سے اپیل کرتے ہیں۔ایسے دلائل اگر صحیح اور زبردست ہوں گے تو ان کا اثر ہر ایک غور کرنے والے انسان کے دل پر ضرور پڑے گا۔خواہ اس کی عقل ہمالیہ جتنی بڑی غلطیاں کر چکی ہو۔خواہ وہ چوری کا عادی ہو یا بت پرستی کی بلاء میں مبتلا ہو۔یہ الگ بات ہے کہ وہ رسم و رواج کی پابندی کی وجہ سے یا تعصب یا ضد کی وجہ سے یا کسی اور بیرونی اثر کے ماتحت ایک امر حق کو قبول نہ کرے۔لیکن ایک زبر دست اور مضبوط دلیل کو سننے اور خالی الذہن ہو کر اس پر غور اور تدبر کرنے سے اس کا دل ضرور شہادت دے گا کہ بات تو سچی ہے۔کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت تمام عرب شرک اور بت پرستی کے گہرے سمندر میں غرق نہیں تھا ؟ کیا عرب میں ڈاکہ مارنے والے اور انسانوں کو بے دریغ قتل کرنے والے انسان موجود نہ تھے؟ پھر وہ کیا چیز تھی جس نے ان کے دلوں کو فتح کر لیا اور ان کو اسلام کا عاشق اور جان نثار غلام بنا دیا؟ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے زبر دست دلائل ہی تھے جنہوں نے ان کے دلوں کو یقین دلایا کہ یہ مدعی اپنے دعوی میں راستباز ہے۔وہ بتوں کو پوجتے تھے۔لیکن جب انہوں نے قرآن شریف کے زبر دست دلائل کو سنا تو ان کے دلوں نے شہادت دی کہ بت بے جان پتھروں سے زیادہ کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔انہوں نے اپنے بتوں کو توڑا اور کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے اسلام میں داخل ہوئے۔غرض جب مسٹر گاندھی نے مولوی صاحب سے عقلی معیار پر قتل مرتد کے حکم کو جانچنے کا مطالبہ پیش کیا تھا تو اس سے ان کی یہ مراد نہ تھی کہ وہ اس کی معقولیت کے متعلق زید یا بکر کی شہادت پیش کریں بلکہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ وہ اس کی تائید میں ایسے دلائل پیش