قتل مرتد اور اسلام — Page 103
103 سامری شرارت کا ایسا ہی بانی تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عبد اللہ بن ابی رئیس المنافقین ، قصۂ افک کا بانی اور الذی تولی کبرہ کا مصداق اعظم تھا مگر حسب روایت صحیحہ اس پر حد قذف جاری نہ کی گئی۔حالانکہ حضرت حسان بن ثابت وغیرہ مومنین پر حد قذف جاری ہوئی۔حقیقت یہ ہے کہ منافقین سب سے بڑھ کر شرارتیں کرتے ہیں لیکن اپنے نفاق کی وجہ سے دنیا میں قانونی گرفت سے اپنے کو بچاتے رہتے ہیں۔جھوٹ بولنے اور بات بنا دینے میں ان کو کوئی باک نہیں ہوتا۔ساری کارروائی کر کے بھی قانونی زد سے اپنے کو بچالیتے ہیں۔“ مولوی صاحب نے بات تو اچھی بنائی ہے مگر افسوس ! یہ عذر یہاں چل نہیں سکتا اور مولوی صاحب حق کی زد سے اپنے کو بچانہیں سکے۔اگر عبد اللہ بن ابی اپنے تئیں قانونی زد سے بچانے میں کامیاب ہوا تو سامری اپنے تئیں نہیں بچا سکا کیونکہ اس کے خلاف تمام قوم نے شہادت دی کہ گوسالہ پرستی کا بانی مبانی سامری ہی ہے۔چنانچہ آتا ہے:۔قَالُوا مَا أَخْلَفْنَا مَوْعِدَكَ بِمَلْكِنَا وَلَكِنَّا حَمَلْنَا اَوْزَارًا مِنْ زِينَةِ الْقَوْمِ فَقَذَ فَنَهَا فَكَذَلِكَ الْقَى السَّامِرِئُ فَأَخْرَجَ لَهُمْ عِجَلًا جَسَدًا لَّهُ خَوَارٌ (طه : 89،88) ان آیات کریمہ کا ترجمہ مولوی نذیر احمد خان صاحب دہلوی نے حسب ذیل کیا ہے۔”انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے اختیار سے آپ کے ساتھ عہد شکنی نہیں کی بلکہ ہم کو یہ معاملہ پیش آیا کہ قوم کے زیوروں کا بوجھ جو ہم پر لادا گیا تھا اب (سامری کے کہنے سے ) ہم نے اس کو ( آگ میں لا) ڈالا اور اسی طرح سامری نے بھی (اپنے پاس کا زیور لا ) ڈالا۔پھر سامری ہی نے لوگوں کے لئے اس کا ایک بچھڑا بنا کر نکال کھڑا کیا 66 جس کی آواز بھی بچھڑے کی سی تھی۔“ اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے جواب طلب کیا تو اس نے اپنے