قتل مرتد اور اسلام — Page 102
102 اللہ تعالیٰ نے یہ رحم کیا ہے کہ ان پر ایسے بوجھ نہیں ڈالے اور ان کے لئے کچی تو بہ پر اکتفا کیا گیا ہے۔اب مولوی صاحب خود فرما دیں کہ یہ تفاسیر ان کے استدلال کی تائید کرتی ہیں یا تردید؟ یہاں یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ سامری کو قتل کی سزا نہیں دی گئی بلکہ اسے زندہ رہنے دیا گیا ہے صرف اس کے ساتھ میل جول بند کر دیا گیا ہے۔اگر سامری کو قتل کی سزا دی جاتی تب بے شک مولوی صاحب کا کہیں ہاتھ پڑسکتا تھا۔کیونکہ اس کی نسبت یہ ثابت نہیں کہ وہ تائب ہوا ہو بلکہ اس کے جواب سے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس نے دیا پایا جاتا ہے کہ اس نے کسی پشیمانی کا اظہار نہیں کیا۔پس اگر اس کو قتل کیا جاتا تو مولوی صاحب کہہ سکتے تھے کہ دیکھو سامر کی تائب نہ ہوا اور اس کو ارتداد کی سزا میں قتل کیا گیا۔لیکن یہاں تو معاملہ بالکل برعکس ہے۔جو تائب ہوتے ہیں ان کو حسب تفسیر مولوی صاحب قتل کیا جاتا ہے اور جو تائب نہیں ہوتا اور جو سب سے زیادہ مجرم ہے اس کو چھوڑ دیا جاتا ہے اس سے مولوی صاحب مرتدین کے متعلق اگر کوئی استدلال کر سکتے ہیں تو یہ کر سکتے ہیں کہ مرتد اگر تو بہ کرے تو اسے قتل کر دو اور اگر تو بہ نہ کرے تو اسے چھوڑ دو۔یہ استدلال اگر مولوی صاحب کے مفید مطلب ہے تو بے شک ان کو اجازت ہے کہ وہ ایسا استدلال کرلیں مگر وہ کسی صورت میں اس آیت سے یہ نتیجہ نہیں نکال سکتے کہ مرتد اگر تو بہ کرے تو اسے چھوڑ دو اگر تو بہ نہ کرے تو اس کو قتل کر دو۔مولوی صاحب نے اپنی طرف سے اس بارے میں پیش بندی کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔وہ سامری کے قتل نہ کئے جانے کی ایک وجہ تجویز فرماتے ہیں۔مگر افسوس که قرآن شریف ان کو کہیں ٹھہرنے نہیں دیتا۔جو سہارا وہ پکڑتے ہیں قرآن شریف اسے گرا دیتا ہے۔مولوی صاحب اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہ کیوں سامری کو جواس ساری شرارت کا بانی تھا قتل نہیں کیا گیا فرماتے ہیں۔