قتل مرتد اور اسلام — Page 104
104 قصور کا صاف اقرار کیا اور قانون کی زد سے بچنے کے لئے وہ کوئی بات نہ بنا سکا۔پھر مولوی صاحب کے عذر کا بطلان اس سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کے جرم کے ثابت ہونے پر اس کو سزا بھی دی اور اس کا جواب سننے کے بعد اس کے خلاف فیصلہ بھی کیا اور وہ فیصلہ یہ ہے:۔قَالَ فَاذْهَبْ فَإِنَّ لَكَ فِي الْحَيَوةِ أَنْ تَقُوْلُ لَا مِسَاسَ وَإِنَّ لَكَ مَوْعِدًا لَّنْ تُخْلَفَهُ (طه : 98) چل اس زندگی میں تو تیری یہ سزا ہے کہ کہتا پڑا پھر کہ دیکھو مجھے کوئی چھونہ جانا۔اور اس کے علاوہ تیرے لئے ایک وعدہ اور ہے جو کسی طرح تجھ پر سے ملے گا نہیں۔“ پس مولوی صاحب کا یہ عذر غلط ہے کہ اس نے عبد اللہ بن اُبی کی طرح قانون کی زد سے اپنے تئیں بچالیا۔اس پر عدالت نے فرد جرم لگایا اور اس کو سزا بھی دی۔مگر وہ سزا قتل کی نہیں تھی بلکہ لا مساس کہنے کی سزا تھی۔مولوی صاحب کی پیش کردہ مثال سے ایک مفید نتیجہ مولوی صاحب کی اس پیش کردہ آیت سے ایک نہایت ہی مفید نتیجہ نکلتا ہے اور وہ یہ ہے کہ مرتد کو قتل نہ کیا جائے۔کیونکہ بنی اسرائیل کے جس واقعہ کو مولوی صاحب نے بطور مثال کے پیش کیا ہے اس میں ایک مرتد یعنی سامری کا ذکر ہے جو اپنے ارتداد پر قائم رہا۔مگر پھر بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کو قتل نہیں کیا۔پس اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ مرتد کی سزا قتل نہیں ہے کیونکہ اگر مرتد کی سزا قتل ہوتی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کو ضرور قتل کرتے۔پس خود مولوی صاحب کی اپنی دلیل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرتد کی سزا قتل نہیں۔مولوی صاحب کا تہہ دل سے ممنون ہوں کہ انہوں نے یہ دلیل مجھے سمجھائی ورنہ میرا ذہن اس طرف نہ جاتا۔اب مولوی صاحب فرمائیں کہ اس دلیل کا ان کے پاس کیا