قندیل صداقت — Page 287
المعاني والبیان کے عالم بے بدل تھے۔فقہ و منطق میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔22- امام محمد بن عبد اللہ التبریزی علامہ ولی الدین محمد بن عبد الله الخطيب التبریزی العمری آپ کا نام تھا۔آپ کی پیدائش کا کچھ پتہ نہیں کہ کب ہوئی تھی۔صرف یہ ذکر ملتا ہے کہ آپ نے 737 ھجری میں مشہور عالم کتاب مشکوۃ المصابیح تالیف فرمائی۔آپ بہت بڑے عالم حدیث تھے اور آپ کی مشہور کتاب مشکوۃ المصابیح ہے، علاوہ ازیں آپ نے مشہور کتاب مصابیح السنہ کی شرح بھی لکھی۔23- علامہ عبد الکریم بن ابراہیم القادری علامہ عبد الکریم بن ابراہیم بن عبد الکریم الجبلی القادری المعروف بہ قطب الدین 768ھ میں پیدا ہوئے اور 811ھ میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ بغداد کے رہنے والے بتائے جاتے ہیں۔آپ طریقہ قادریہ کے پیروکار تھے۔آپ کے خیالات شیخ الکبیر علامہ محی الدین ابن عربی کی تعلیمات کے مطابق تھے۔انسان کامل فی معرفۃ الاواخر والاوائل، الاسفار عن رسالة الانوار ، النوادر العينية في البوادر الا الغيبية، الكهف والرقيم ، الكاشف عن اسرار بسم الرحمن الرحیم آپ کے علمی شاہکار ہیں۔-24- امام عبد الرحمان بن ابی بکر السیوطی الله علامہ عبدالرحمن بن ابی بکر بن محمد ابی بکر بن عثمان بن محمد بن خضر بن ایوب من محمد بن عمام الدین المصری الشافعی جلال الدین (ابو القفل) سیوطی 1445ء میں قاہرہ میں پیدا ہوئے اور 1505ء میں فوت ہوئے۔آپ کے آباؤ اجداد مصر کے شہر سیوط میں آکر آباد ہوئے۔اسی وجہ سے سیوطی مشہور ہوئے۔آپ کے والد فقہ کے بہت بڑے عالم اور مدرس تھے ، آپ نے بھی علوم نقلیہ و عقلیہ میں مہارت حاصل کی اور اپنے باپ کی جگہ مدرس بن گئے۔آپ علوم شریعت قرآن ، تفسیر ، حدیث ، فقہ ، ادب، لعنت اور تاریخ و تصوف میں ماہر تھے۔آپ کی مشہور تصانيف ترجمان القرآن في الـتـفـسـير المسـنـد القرآن، تفسير الدر المنثور ، الاتقان في علوم القرآن، الجامع الصغیر فی الحدیث ہیں۔آپ کی تصانیف کی تعداد 500 سے زائد ہے۔25- علامہ اسماعیل حقی الاستنبولی علامہ اسماعیل حقی بن مصطفى الاستنبولی، البروسوی ابو الفداء 1063 ہجری میں ایدوس میں پیدا ہوئے اور 1137 ہجری میں وفات 287