قندیل صداقت

by Other Authors

Page 288 of 318

قندیل صداقت — Page 288

پائی۔شیخ فضل اللہ عثمان کی تعلیم و تربیت سے مستفیض ہونے کا موقع ملا۔اُنہیں سے علم کے اعلیٰ مدارج اور طریقہ تصوف کی منازل طے کیں۔آپکی مشہور تصانیف روح البیان في التفسير القرآن ، كتاب التوحيد ، كتاب النجاة ، شرح الاربعین فی الحدیث ہیں۔آپ نے ایک سو سے زائد کتابیں تصنیف کیں۔26- حضرت شاہ ولی اللہ حضرت عظیم الدین شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ابن عبد الرحیم شاہ 1703ء میں ضلع مظفر نگر ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم گھر میں ہی حاصل کی۔سات سال کی عمر میں قرآن حفظ کیا۔تفسیر، حدیث، فقہ اور تصوف کا علم حاصل کیا۔آپ کا تعلق سلسلہ نقشبندیہ سے تھا۔آپ عظیم محدث ، جید عالم ، فقیہ ، مجتہد اور عربی زبان کے ماہر تھے۔آپ کی مشہور تصانیف فتح القرآن ، الفوز الكبير ، حجة البالغة اور تفہیمات الہیہ وغیرہ ہیں۔27- علامہ سید محمود آفندی آپ کا نام سید محمود آفندی، کنیت ابو الثناء لقب شہاب الدین ہے۔آپ 1217ھ میں بغداد کے محلہ کرخ میں پیدا ہوئے۔اپنے والد ماجد سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔اکابر علماء سے فیض حاصل کیا۔13 سال کی عمر میں تدریس و تالیف میں لگ گئے۔آپ اپنے زمانہ کے معقولات کے مستند اور جامع عالم اور عدیم المثال محدث و مفسر تھے۔آپ کی مشہور تصانیف روح المعاني في تفسير القرآن، شرح السلم فی المنطق وغیرہ ہیں۔28- نواب صدیق حسن خان آپ 1248ھ میں پیدا ہوئے۔آپ کا آبائی وطن بریلی یو۔پی ہند ہے۔ابتدائی تعلیم اپنے محلہ میں ہی حاصل کی۔فرخ آباد گئے۔آپ کی مساعی کی وجہ سے بر صغیر میں علوم دینیہ کا احیاء ہوا اور مذہبی حلقوں میں جمو دٹوٹ کر علمی تحقیق کا شوق پیدا ہوا۔علوم کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس پر آپ کی کوئی غیر معمولی تصنیف نہ ہو۔29- علامہ محمد قاسم نانوتوی آپ 1248ھ میں پیدا ہوئے اور 1297ھ میں آپ نے وفات پائی۔آپ کا آبائی وطن نانوتہ ضلع سہارنپور اتر پردیش بھارت تھا۔اپنے وطن کے مکتب میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔اس کے بعد مختلف بزرگوں سے عربی اور فارسی کی کتب پڑھیں۔صدق و دیانت، تقوی و دینداری اُمت محمدیہ سے ہمدردی، خیر خواہی اور راہ حق میں سر فروشی و جانبازی کی روشن مثالیں قائم کیں۔آپ 288