قندیل صداقت — Page 286
18- علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد الاندلسی علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابی بکر بن فرح الانصاری الاندلسی القرطبی نے 671ھ میں وفات پائی۔آپ کا شمار مفسرین العارفین، الوارثین اور الزاھدین فی الدنیا میں ہوتا ہے۔آپ کی مشہور تصانیف دس جلدوں پر مشتمل الجامع الاحكام القرآن ، الاسنى فى شرح اسماء الله الحسنى، التذكار فى افضل الاذكار ، التذكره بأمور الآخرہ ہیں۔19- علامہ ابن قیم جوزیہ علام شمس الدین ابو عبد اللہ محمد بن بکر بن ایوب سعد زرعی دمشقی المعروف ابن قیم جوزیہ بمقام دمشق 691ھ میں پیدا ہوئے اور 751ھ میں انکی وفات ہوئی۔آپ کے والد دمشق کے المدرسه الجـوزیـہ کے قیم و مہتمم تھے۔اس لئے انہیں ابن قیم جو ز ئی کہا جانے لگا۔آپ بلند پایہ مفسر قرآن، علم نحو کے امام ، فن کلام کے استاد اور اپنے وقت کے بہت بڑے مجتہد اور متکلم تھے اور اپنی اس قابلیت کے پیش نظر ابن تیمیہ کے صحیح جانشین سمجھے جاتے تھے۔آپ کے علمی کارناموں میں اعلام الموقعین من رب العالمین کتاب بدائع الغائد ، کتاب الصراط المستقيم، اجتماع الجيوش الاسلاميه ، مدارج السالكين ، زاد المعاد ، مفتاح دار السعادة ، الوابل الصيب فی الکلم الطیب سر فہرست ہیں۔ابن العماد نے اپنی کتاب شذرات الذہب میں علامہ موصوف کی 45 کتب کی فہرست دی ہے۔20- علامہ ابن کثیر ข آپ کا نام اسمعیل، کنیت ابوالفداء اور لقب عمادالدین جبکہ ابن کثیر آپ کا عرف ہے۔آپ 701ھ میں پیدا ہوئے اور 774ھ میں آپ نے وفات پائی۔آپ کا آبائی گاؤں مجدل ملک شام میں ہے۔بڑے بھائی سے فقہ اور شیخ برہان الدین اور شیخ کمال الدین سے فن حدیث کی تکمیل کی۔علم حدیث کے علاوہ فقہ ، تفسیر اور تاریخ میں بھی آپ کو کمال حاصل تھا۔چنانچہ بڑے بڑے علماء نے آپ کی خدمت میں خراج تحسین پیش کیا۔آپ کی مشہور تصانیف تفسیر القرآن الكريم، البدايه والنهايه ، طبقات الشافعيه، الاجتهاد فى طلب الجهاد ، رسالة فی فضائل القرآن اور کتاب المقدمات ہیں۔21- علامہ مسعود بن عمر بن عبد اللہ التفتازانی علامہ مسعود بن عمر بن عبد الله التفتازانی المعروف به سعد الدین 712 ہجری بمطابق 1312ء میں پیدا ہوئے اور 791ھ بمطابق 1389ء میں وفات پائی۔آپ نساء کے ایک نواحی گاؤں تفتازان کے رہنے والے تھے۔آپ عربی گرائمر الصرف والخو نیز علم 286