قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 1363 of 1460

قندیل ہدایت — Page 1363

1+91 1363 of 1460 ۳۰:۲۲ لوقا 1061 بادشاہی نز دیک ہے ساتھ عید فسح کا کھاناکھ سگوں ؟ ۱۲ و تمہیں اوپر لے جا کر ایک بڑا ۱۳ انہوں نے جا کر سب کچھ ویسا ہی پایا جیسا اُس نے ۳۲ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ باتیں ہوں نہ سا کمرہ دکھائے گا جو ہر طرح آراستہ ہوگا۔وہیں ہمارے لیے لیں اس نسل کا خاتمہ نہ ہوگا۔۳۳ آسمان اور زمین ٹل جائیں گے تیاری کرنا۔لیکن میری باتیں کبھی نہیں ملیں گی۔۳۴ پس تم خبر دار ہو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے دل شکم پری اُنہیں بتایا تھا اور عید فسح کا کھانا تیار کیا۔اور شراب نوشی اور اس زندگی کی فکروں سے سُست پڑ جائیں اور جب کھانے کا وقت آیا تو یسوع اور اُس کے شاگرد وہ دن تم پر پھندے کی طرح نا گہاں آ پڑے۔۳۵ کیونکہ وہ دستر خوان کے ارد گرد بیٹھ گئے ۱۵ اور اُس نے اُن سے کہا: میری روئے زمین پر موجود تمام لوگوں پر اسی طرح آپڑے گا۔۳۶ پس ہر بڑی آرزو تھی کہ اپنے دکھ اُٹھانے سے پہلے فسح کا یہ کھانا تمہارے وقت بیدار رہو اور دعا میں لگے رہو تا کہ تم ان سب باتوں سے جو ساتھ کھاؤں۔کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں کہ آئیندہ میں اُسے ہونے والی ہیں، بچ کر ابنِ آدم کے حضور میں کھڑے ہونے کے اُس وقت تک نہ کھا سکوں گا جب تک کہ خدا کی بادشاہی میں اُس کا لائق ٹھہرو۔مقصد پورا نہ ہو جائے۔۳۷ یسوع ہر روز ہیکل میں تعلیم دیتا تھا اور رات کو باہر جا کر اپھر اُس نے پیالہ لیا اور خدا کا شکر کر کے اُنہیں دیا اور کہا کو و ریحون پر رہا کرتا تھا۔۳۸ صبح ہوتے ہی سب لوگ اُس کی کہ اسے لو اور آپس میں بانٹ لو۔۱۸ کیونکہ میں تم سے کہتا ہوں باتیں سننے کی غرض سے ہیکل میں اُس کے پاس آجاتے تھے۔کہ آیندہ انگور کا یہ رس اُس وقت تک نہ پیوں گا جب تک کہ خدا کی یہوداہ کی غداری ٢٢ بادشاہی آ نہ جائے۔عید فطیر جسے عید فسح بھی کہتے ہیں نزدیک تھی۔۱۹ پھر اُس نے روٹی لی اور خدا کا شکر کر کے اُس کے ٹکڑے سردار کا ہن اور شریعت کے عالم موقع ڈھونڈ کیسے اور انہیں شاگردوں کو یہ کہہ کر دیا کہ یہ میرا بدن ہے جو تمہارے رہے تھے کہ یسوع کو کسی طرح چپکے سے ٹھکانے لگا دیں کیونکہ وہ لیے دیا جاتا ہے۔تم بھی میری یادگاری کے لیے یہی کیا کرنا۔لوگوں سے ڈرتے تھے۔اور شیطان یہوداہ میں سما گیا۔اُسے ۲۰ اسی طرح کھانے کے بعد اُس نے پیالہ لیا اور شاگردوں اسکر یوتی بھی کہتے تھے اور وہ یسوع کے بارہ شاگردوں میں شمار کیا کو یہ کہہ کر دیا کہ یہ پیالہ میرے اُس خون میں جو تمہارے لیے بہایا جاتا تھا۔وہ سردار کاہنوں اور ہیکل کے پاسبانوں کے سرداروں جاتا ہے نیا عہد ہے۔۲۱ مگر دیکھو مجھے گرفتار کرنے والے کا ہاتھ کے پاس گیا اور اُن سے مشورہ کرنے لگا کہ وہ کس طرح یسوع کو اُن میرے ساتھ دستر خوان پر ہے۔۲۲ کیونکہ ابن آدم تو جا ہی رہا کے حوالے کرے۔وہ بڑے خوش ہوئے اور اُسے روپیہ دینے کا ہے جیسا کہ اُس کے لیے پہلے سے مقرر ہے لیکن اُس آدمی پر افسوس وعدہ کیا۔اُس نے اُن کی بات مان لی اور موقع ڈھونڈنے لگا کہ جس کے ہاتھوں وہ گرفتار کروایا جاتا ہے۔۲۳ یہ سُن کر وہ آپس یسوع کو کس طرح اُن کے حوالے کرے کہ لوگوں کو خبر تک نہ ہو۔میں پوچھنے لگے کہ ہم میں ایسا کون ہے جو یہ کام کرے گا ؟ قم ۲ اُن میں اس بات پر کہ اُن میں کون بڑا سمجھا جاتا ہے ے عید فطیر کا دن آ پہنچا۔اس دن صبح کے برہ کی قربانی کرنا تکرار ہونے لگی۔۲۵ یسوع نے اُن سے کہا کہ غیر قوموں پر ان فرض تھا۔یسوع نے پطرس اور یوحنا کو یہ کہہ کر روانہ کیا کہ جاؤ کے بادشاہ حکومت چلاتے ہیں اور جو اختیار والے ہیں وہ حسن اور ہمارے لیے فصیح کھانے کی بتیاری کرو۔کہلاتے ہیں۔۲۶ لیکن تم ایسے نہیں ہو گے۔تم میں جو بڑا ہے وہ انہوں نے پو چھا: تو کہاں چاہتا ہے کہ ہم فسح کا کھانا چھوٹے کی مانند ہو اور جو حاکم ہے وہ خادم کی مانند ۲۷ کیونکہ بڑا کون ہے؟ وہ جو دستر خوان پر بیٹھا ہے یا وہ جو اُس کا خادم ہے؟ کیا ختیار کریں؟ عشائے ربانی ا اُس نے اُنہیں جواب دیا : شہر میں داخل ہوتے ہی تمہیں وہ نہیں جو دستر خوان پر بیٹھا ہے؟ لیکن میں تو تمہارے بیچ میں ایک ایک آدمی ملے گا جو پانی کا گھڑالے جار ہا ہوگا۔اُس کے پیچھے ہو لینا خادم کی مانند ہوں۔۲۸ مگر تم وہ ہو جو میری آزمائیشوں میں برابر اور جس گھر میں وہ داخل ہوا اس کے مالک سے کہنا کہ اُستاد نے میرے ساتھ رہے ہو۔۲۹ جیسے باپ نے مجھے ایک سلطنت عطا کی پوچھا ہے کہ وہ مہمان خانہ کہاں ہے جہاں میں اپنے شاگردوں کے ہے، میں بھی تمہیں ایک سلطنت عطا کرتا ہوں۔۳۰ تا کہ تم میری