قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 426 of 1460

قندیل ہدایت — Page 426

426 of 1460 تحذیر الناس کی لطفا خاتم النبیین سے ماخوف سے اسباب میں کافی ہے کیونکہ مضمون درجہ تواتر کو سینگیا ہے پھر اسپر اطماع تبھی منعقد ہو گیا کو الفاظ مذ کو رہند متواتر منقول ہوں سو یہ عدم تواتر الفاظ ما وجود تواتر معنوی یہاں ایسا ہی ہوگا جیسا تو اتر اعداد رکعات فرائض موتر و غیره با در خود گیر الفاظ احادیث مشعر تعداد رکعات تواتر نہیں جیسا اسکا منکر کافر ہے ایسا ہی اسکا شکر بھی کافر ہو گا اب دیکھئے کہ اس صورت میں عطف بین الملتین اور استدراک اور استثنا بند کریں بھی بغایت درجہ جہاں نظر آتا ہے، اور خاتمیت بھی بوجہ احسن ثابت ہوتی ہے ، اچھا امیت زمانی بھی ہاتھ سے نہیں جاتی اور نیز اس صورت میں جیسے قرآت خالم بجسر الشاہ جہاں ہے۔ایسے ہی قرآت خاتم بفتح التا بھی نہایت درجے کو بے تکلف موزوں ہو جاتی ہے کیونکہ جیسے خاتم بفتح التاء کا اثر اور نقش مختوم علیہ میں ہوتا ہے ایسے ہی موصوف بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوتا ہے حاصل مطلب آیہ کریمیہ اس صورت میں یہ ہوگا کہ ابو معروفہ تو رسول اللہ صلی الہ علیہ وسلم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابوة معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور اغیار کی نسبت بھی حاصل ہے انبیاء کی نسبت تو فقط خاتم النبین شاہد ہے کیونکہ اوصاف عروض موضو بالعرض بالذات کے فرع ہوتے ہیں موصوف بالذات اوصاف عرضیہ کی اصل ہوتا ہے ، اور وہ اسکی نسل او ظا ہر ہے کہ والد کو والد اور اولاد کو اولاد اسی لحاظ سے کہتے ہیں کہ یہ اس سے پیدا ہوتے ہیں وہ فاعل ہوتا ہے، چنانچہ والد کا اسم فاعل ہونا اپر شاہدہ سے اور مفعول ہوتے ہیں، چنانچہ اولاد کو مولود کہنا اسکی دلیل ہے ، سو جاتے با برکات محمدی صلی اللہ علیہ وسلم موصوف بالذات بالنبوة ہوئی اور انبیا تا باقی مونو با لعرض تو یہ بات البتہ ثابت ہو گئی کہ آپ والد معنوی ہیں اور اغیارم باقی آپکے حق مین منزله لاولاد معنوی اور امیتیوں کی نسبت لفظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں غور کیجئے تو یہ بات الح ہے، ہر ایت النتے اولى بالمؤمنین کا نیکی ضرورت ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صغرے بنائے اور اللے اولَی بِالْمُؤْمِنین کو کرنے دیکھئے نتیجہ نکلتا ہے یا نہیں روایت اسکی یہ ہے کہ النَّه أَولَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِن آن مو کو بعد لحاظ صلہ من انفہ کے دیکھئے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کیساتھ وہ قرب حل ہے۔کہ ابھی جانو کو بھی ان کیساتھ حاصل نہیں کیونکہ اعلیٰ ہم نے اقرب ہوا ، اور اگر مہینے احتاوانی بالتعرفہ ہو جب بھی یہی بات لازم آئیکی کیونکہ اجنبیت اور اہ اورت بالتصرف کیلئے اقربیت