قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 425 of 1460

قندیل ہدایت — Page 425

425 of 1460 تحذير الناس لہ جو ایک کو دوسرے پر عطف کیا اور ایک کو مستدرک منہ اور دوسرے کو استدراک قرار دیا اور ظاہر ہیں کہ اس قسم کی بے یعنی بے ارتباطی خدا کے کلام معجز نظام میں متصور نہیں اگر سریاب شکور منظور ہی تھا تو اس کے لئے اور بیسیوں موقع تھے بلکہ بنانے خاتمیت اور بات پر ہے جس سے تاخر زمانی اور سید باب مذکور خود بخود لازم آجاتا ہے اور فضیلت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم دوبالا ہو جاتی ہے تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موصوف بالعرض کا قصہ موصود بالذات پر ختم ہو جاتا ہے۔جیسے موصوف بالعرض کا صف موصوف بالذات سے مکتب ہوتا ہے موصوف بالذات کا وصف جسکا ذاتی ہونا اور غیر مکتب من الغیر ہونا لفظ بالذات ہی سے مفہوم ہے کسی غیر سے مکتب اور ستعار نہیں ہوتا مثال درکار ہے تو لیجئے زمین و کہا ر اور درو دیوار کا نور اگر آفتاب کا فیض ہے تو انسان کا نور کسی اور کا فیض نہیں اور ہماری غرض وصف نے آتی ہونے سے اتنی ہی تھی بایں ہمہ یہ وصف کرے آفتاب کا ذاتی نہیں توجس کا تم کہو ہی موصوف بالذات ہوگا اور اسکا نور ذاتی ہو گا کسی اور مکتب اور کسی اور کا فیض نہ ہوگا۔الغرض یہ بات بدیہی ہے کہ موصوف بالغات سے آگے سلسلہ ختم ہو جاتا ہے چنانچہ خدا کے لئے کسی اور خدا کے نہ ہو نیکی وجہ اگر ہے تو یہ ہی ہے یعنی ممکنات کا وجود اور کمالات موجود سب عرضی بھنے بالعرض میں اور یہ ہی وجہ ہے کہ کبھی موجود کبھی محروم کبھی صاحب کمال کبھی بے کمال رہتے ہیں اگر یہ امور مذکور ممکنات کے حق میں ذاتی ہوتے تو یہ انفصال اتصال ہوا کرتا عملی الزام وجود اور کمالات وجود ذات ممکنات کو لازم ملازم رہتے۔سو اسی طور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت کو تصور فرمائیے یعنی آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں اور سوا آپ کے اور نبی موصوف بوصف نبوت با دو من اوروں کی نبوت آپ کا فیض ہے پر آپ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں آپ پر سلسلہ ثبوت مختم ہو جاتا ہے غرض آپ جیسے نبی الامیہ ہیں ویسے ہی نبی الانبیاء بھی ہیں اور یہی وجہ ہوئی کہ به شهادت واذا خذ الله ميثاق النبيين لما أتيتكم مركباب وحِلَسَ تَو جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُصَدِقَ لِمَا مَعَكُم لِتُؤْمِنُ بِه وَ لِتَصور انے اور خیاء کرام علیہ وعلیہم السّلام سے آپ پر ایمان لانے اور آپکے اقتدار اور اتباع کا عہد لیا گیا۔ادھر آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اگر حضرت موسی بھی مندہ ہوتے تو میرا ہی اتباع کرتے علاوہ بریں بعد نزول حضرت عینی کا آپ کی شریعت پر عمل کرنا اسی بات پر مبنی ہے۔ادھر