قندیل ہدایت — Page 380
380 of 1460 لي الدله و مادمت و ،، اس کے صاف معنی ہیں که تک جب میں میں زندہ تھا اور اس کی سند خود قرآن مجید کی دوسری آیت 66 موجود هے جہاں فرمایا هے " مادمت حيا ، هوتا هے که جو معنی حیا کے ہیں وہی معنی وهى ھیں ، اس کے بعد ھے "ولما توفيتن بهی " ظاهر هوتا هے که اس لفظ حيا 6 " 66 پس صاف ظاهر فیہم 46 کے تو اس سے اور هی مراد تھی اور میں تھا مطلب بالكل صاف هو جاتا هے که تک ان میں یعنی زندہ تھا تو میں اس پر شاہد تھا اور جب تو نے مجھے موت دی تو تو ان کا نگہبان رها - پس ان دونوں آیتوں میں اس دنیا ھی میں حضرت عیسی کا زندہ رھنا اور اس دنیا ھی میں اپنی موت سے مرنا بخوبی ظاهر هوتا هے اب باقی رهی چوتھی آیت، مگر جب یه تحقیق يه تحقيق هو گیا که یهودی به دعوی کرتے تھے کہ ہم نے حضرت عیسی کو سنگسار کر کے قتل کیا تھا اور عیسائی یہ یقین کرتے تھے کہ نے صلیب پر حضرت عیسی کو قتل کیا تھا حالان که یه دونوں۔وہ سنگسار تو هرگز نہیں ھوئے ، صلیب پر - یہودیوں باتیں غلط تھیں البته لٹکائے گئے مگر صلیب پر مرے نہیں۔ان دونوں اعتقادوں کے رد کرنے کو خدا نے فرمایا کہ " ما قتلوه و ما صلبوه پہلے " " ما ،، قافيه نفس قتل کا سلب ھوتا ھے اور دوسرے سے کمال صلیب کا۔کیوں کہ صلیب پر چڑھانے کی تکمیل اسی - وقت تھی جب صلیب کے سبب موت واقع ھوئی ، حالاں که صلیب پر موت واقع نہیں ھوئی۔”و لكن شبه لهم“ سے اور زیادہ تشریح اس مطلب کی ھوتی ھے۔تشبیه مین چار چیزیں هوتی ھیں : ایک مشبه اور ایک مشبه به، ایک وجه تشبیه ایک مشبه له - اس آیت میں صرف دو چیزیں بیان ھوئی هیں : ایک مشبه