قندیل ہدایت

by Other Authors

Page 379 of 1460

قندیل ہدایت — Page 379

379 of 1460 66 بعض علماء کا قول لکها هے که لفظ " رفیع ، کا تعظیماً اور تغخیماً بولا گیا ھے - - 66 جن علماء نے "متوفیک“ کے معنی "ممیتک" کے قرار دیے تھے انھوں نے قرآن مجید کے ٹھیک ٹھیک معنی سمجھے تھے۔ان کا خیال تھا کہ یہودیوں نے حضرت عیسی کو قتل نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی موت سے مرے۔مگر انھوں نے " رافعک“ کے معنوں میں غلطی کی جو یہ خیال کیا که پهر زنده ھو کر آسمان پر چلے گئے۔کیوں کہ ” رافعک “ کے لفظ ” سے جیسا ہم نے اوپر بیاں کیا۔آسان پر جانا لازم نہیں آتا۔تفسير كبير میں لکھا هے که حضرت عیسی پر موت طبعی طاری کرنے سے مقصود یہ تھا کہ ان کے دشمن ان کو قتل نہ کر سکیں۔و هب کا یہ قول ہے کہ وہ تین گھنٹے تک مردہ رھے اور محمد بن اسحاق کا قول هے که سات گھنٹہ ، تک پھر زندہ ھوئے اور آسمان پر چلے گئے اور ربیع ابن انس کا قول هے که الله تعالى نے آسمان پر اٹھاتے وقت موت دی۔بهر - حال ان اقوال سے اس قدر ثابت هوا که بعض علماء اس i بات کے قائل ھوئے ھیں کہ حضرت عیسی کو موت طبعی طاری ھوئی اور بعض علماء نے ' رفع ، کے لفظ سے حضرت عیسی کے کا آسمان پر آٹها لينا مراد نهين ليا ، بلکہ اس سے ان کی جسم - قدر و منزلت مراد لی ھے پس جب ان دونوں قولوں کو تسلیم کیا جاوے تو جو هم بیان کرتے ہیں وھی پایا جاتا هے که حضرت عیسی کو یہودیوں نے نہ سنگسار کر کے قتل کیا نه صليب پر قتل کیا بلکہ وہ اپنی موت سے مرے اور خدا نے ان کے درجه اور مرتبہ کو مرتفع کیا ان آیتوں میں ایک اور لفظ بھی غور کے قابل ہے یعنی -