قندیل ہدایت — Page 381
381 of 1460 ۳۴۵ جو حضرت عيسى عليه السلام تھے ، دوسری مشبه لهم جو یهودی اور جو در پے قتل حضرت مسیح تھے - مشبه به قرآن میں کور نہیں ہے۔علمائے اسلام نے بعض عیسائی فرقوں کا یه قول پایا که شمعون یا یهودا صلیب پر چڑھایا گیا تھا انھوں نے جھٹ قرآن کے معنی بدل دیے اور یہودا یا شمعون کو مشبه اور حضرت عیسی کو مشبه به اور یہودا یا شمعون کی تبدیل صورت وجه تشبیه قرار دے دیا ، حالاں کہ یہاں حرف مشبه به " موتى 66 هے اور وجہ تشبیه وه حالت هے جو - محذوف ھے اور وہ حضرت عیسی پر طاری ھوئی تھی جس کے سبب وہ مرده تصور ھوئے تھے۔پس تقدیر آیت کی یه هے که و و ما صلبوه ولكن شبه لهم بالـــوتی “ اس کی زیادہ تصریح اسی آیت کے اگلے لفظوں ھوتی ھے جہاں خدا نے فرمایا هے که و جو لوگ اس میں اختلاف کرتے ہیں وہ شک میں ھیں۔ان کو کچھ علم نہیں ھے بجز گان کی پیروی کے ، اور پھر اس کے بعد تاکیداً اور یقیناً فرمایا کہ " آنھوں نے عیسی کو قتل نہیں کیا اور اس مقام پر صلیب کا کچھ ذکر نہیں کیا بلکہ صرف قتل کی نفی کی اور اس سے بخوبی ثابت ھوتا ھے که اوپر جو صلیب کی نفی کی تھی اس نفى قتل بالصليب مراد تهی نه مطلق صليب - ثم اساته باجل مسمى و رفعه اليه كما قال الله تعالى بل رفعه الله اليه - انھی باتوں پر آنحضرت صلی الله عليه وسلم نے عیسائی عالموں سے مباهله چاها جس سے ایک نہایت عمدہ طور پر فطرت انسانی ظاهر ھوتی ھے۔تمام اهل مذاهب خواه صحيح مذهب رکھتے ھوں یا غلط دو قسم کے ھوتے ھیں۔جہلا اور علماء ، جہلا کا یقین مذهبی باتوں پر نہایت پختہ اور مستحکم ھوتا ھے اور جو کچھ انھوں نے