قندیل ہدایت — Page 1329
1329 of 1460 527 تجھ ہی پر ہمارے باپ دادا نے تو کل کیا ؛ اُنہوں نے تو کل کیا اور تُو نے انہیں چھڑایا۔انہوں نے تجھ سے فریاد کی اور رہائی پائی؛ اُنہوں نے تجھ پر تو کل کیا اور مایوس نہ ہوئے۔لیکن میں تو کیڑا ہوں، انسان نہیں، زیور ۲۷:۲۲ ۵۲۷ اور تُو نے مجھے موت کی خاک میں ملا دیا۔۱۶ کیونکہ گتوں نے مجھے اپنے نرغہ میں لے لیا ہے؟ اور بدکاروں کا گروہ مجھے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہے، اُنہوں نے میرے ہاتھ اور میرے پاؤں چھید ڈالے ہیں۔ے میں اپنی سب ہڈیاں گن سکتا ہوں؟ جس سے آدمی نفرت کرتے ہیں اور لوگ اُسے حقارت کی نظر سے لوگ مجھے تا کتے ہیں اور میری طرف للچائی ہوئی نگا ہوں۔۱۸ دیکھتے ہیں۔وہ میرے کپڑے آپس میں بانٹتے ہیں دیکھتے ہیں۔وہ سب جو مجھے دیکھتے ہیں، میرا مضحکہ اُڑاتے ہیں؛ اور اپنے سر ہلا ہلا کر یہ کہتے ہوئے طعنہ زنی کرتے ہیں کہ اور میری پوشاک پر قرعہ ڈالتے ہیں۔اس کا تو کل خدا وند پر ہے؛ اب خداوند ہی اسے بچائے۔چونکہ وہ اُس سے خوش ہے، لہذا وہی اُسے چھڑائے۔۹ پھر بھی تونے مجھے رحم میں سے نکالا ؟ اور میری شیر خواری کے دنوں ہی سے تونے مجھے سکھایا کہ میں تجھ پر تو کل کروں۔۱۰ پیدایش ہی سے مجھے تجھ پر چھوڑ دیا گیا؟ میری ماں کے بطن ہی سے تو میرا خدا ہے۔ا مجھ سے دُور نہ رہ، ۱۲ کیونکہ مصیبت قریب ہے اور کوئی مددگار نہیں ہے۔بہت سے سانڈوں نے مجھے گھیر لیا ہے؛ ۱۹ لیکن اے خداوند! تو دُور نہ رہ؛ اے میرے چارہ ساز میری مدد کے لیے جلدی آ۔۲۰ میری جان کو تلوار سے بیچا، اور میری انمول زندگی کو کتوں کی گرفت سے چھڑا۔۲۱ مجھے شیر ببر کے منہ سے بچا؟ ۲۳ اور مجھے جنگلی سانڈوں کے سینگوں سے محفوظ رکھ۔۲۲ میں اپنے بھائیوں کے سامنے تیرے نام کا اعلان کرونگا؟ اور جماعت میں تیری ستایش کروں گا۔اے خداوند سے ڈرنے والو! اُس کی ستائیش کرو! اے یعقوب کی اولاد ! سب اُس کی تمجید کرو! اور اسے اسرائیل کی نسل ! سب اُس کا ڈرمانو ! ނ ۲۴ کیونکہ اُس نے مصیبت زدہ کی تکلیف کو نہ تو حقیر جانا اور نہ ہی اس سے نفرت کی ؛ بسن کے زور آور سانڈ مجھے چاروں طرف سے گھیرے ہوئے اُس نے اُس سے اپنا چہرہ بھی نہیں چھپایا ہیں۔ا جیسے دھاڑنے والے شیر ببر اپنے شکار کو پھاڑتے ہیں ویسے ہی وہ اپنا منہ میرے سامنے پسارتے ہیں۔۱۴ میں پانی کی مانند انڈیل دیا گیا ہوں اور میری سب ہڈیاں جوڑوں سے اُکھڑ گئی ہیں۔میرا دل موم ہو گیا ہے؛ اور وہ میرے اندر پھل گیا ہے۔ا میری قوت ٹھیکرے کی مانند خشک ہوچکی ہے، اور میری زبان میرے تالو سے چپک گئی ہے؟ ۱۵ ۲۵ بلکہ اُس کی فریاد سُنی۔بڑے مجمع میں تو ہی میری ثنا خوانی کا باعث ہے؛ میں اپنی قسمیں تیرا خوف ماننے والوں کے سامنے پوری کروں گا۔۲۶ غریب کھا کر سیر ہوں گے ؛ وہ جو خداوند کے طالب ہیں، اُس کی ستایش کریں گے۔تمہارے دل ابد تک زندہ رہیں! ۲۷ دنیا کے ہر گوشہ کے لوگ