قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 29 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 29

خوشبو نہیں تھی۔ابھی وہ اسی حیرت و استعجاب میں تھے کہ انہیں حضور کے کرتے پر بھی سرخی کے چند تازے چھینٹے دکھائی دئے۔وہ مبہوت ہو کر آہستہ سے چار پائی سے اٹھے اور انہوں نے ان قطرات کا سراغ لگانے کے لئے چھت کا گوشہ گوشہ پوری بار یک نظر سے دیکھ ڈالا۔انہیں اس وقت یہ بھی خیال ہوا کہ کہیں چھت پر کسی چھپکلی کی دُم کٹنے سے خون نہ گرا ہو۔مگر وہ تو دست قدرت کا کشفی معجزہ تھا۔خارج میں اس کا کھوج کیا مانا تھا۔نا چار وہ چار پائی پر بیٹھ گئے اور دوبارہ پاؤں دابنے کی خدمت میں مصروف ہو گئے۔تھوڑی دیر بعد حضور عالم کشف سے بیدار ہو گئے اور مسجد مبارک میں تشریف لے آئے۔منشی صاحب پھر دابنے لگے اور اس دوران میں انہوں نے حضرت سے سوال بھی کر دیا کہ حضور آپ پر یہ سرخی کہاں سے گری ہے؟ حضور نے بے توجہی سے فرمایا کہ آموں کا رس ہوگا۔دوبارہ عرض کیا گیا کہ حضور یہ آموں کا رس نہیں یہ تو سرخی ہے۔اس پر حضور نے سرمبارک کو تھوڑی سی حرکت دیکر فرمایا ” کتھے ہے یعنی کہاں ہے۔منشی صاحب نے کرتے پر وہ نشان دکھا کر کہا کہ یہ ہے۔اس پر حضور نے کر یہ سامنے کی طرف کھینچ کر اور اپنا سر ادھر پھیر کر قطرہ کو دیکھا اور پھر (منشی صاحب کے بیان کے مطابق) پہلے بزرگوں کے کچھ واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ خدا کی ہستی وراء الوراء ہے۔اس کو یہ آنکھیں دنیا میں نہیں دیکھ سکتیں۔البتہ اس کے بعض صفات جمالی یا جلالی متمثل ہوکر بزرگوں کو دکھائی دئے جاتے ہیں۔رویت باری تعالیٰ اور کشفی امور کے خارجی ظہور پر یوں واقعاتی روشنی ڈالنے کے بعد 29