قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات

by Other Authors

Page 28 of 112

قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 28

میں جو اس وقت غسل خانہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام شرقاً غرباً بچھی ہوئی ایک چار پائی پر آرام فرما رہے تھے۔تازہ پلستر کی وجہ سے حجرہ کی فضا میں خنکی سی تھی۔چار پائی پر نہ کوئی بستر تھا نہ تکیہ اور حضرت اقدس علیہ السلام بائیں کروٹ لیٹے با ئیں کہنی سر کے نیچے رکھے اور چہرہ مبارک دائیں ہاتھ سے ڈھانپے ہوئے تھے۔اور حضور کے مخلص خادم منشی عبداللہ صاحب ستوری نیچے بیٹھے حضور کے پاؤں داب رہے تھے کہ حضرت اقدس نے کشفی حالت میں دیکھا کہ بعض احکام قضاء وقدر حضرت نے اپنے ہاتھ سے لکھے کہ آئندہ زمانہ میں ایسا ہوگا اور پھر اس کو دستخط کرانے کے لئے خداوند قادر مطلق جل شانہ کے سامنے پیش کیا اور اس نے جو ایک حاکم کی شکل میں متمثل تھا اپنے قلم کو سرخی کی دوات میں ڈبو کر اول اس سرخی کو آپ کی طرف چھڑ کا اور بقیہ سرخی کا قلم کے منہ میں رہ گیا۔اور اس سے قضاء وقدر کی کتاب پر دستخط کر دئے۔خدا کی معجز نمائی کا نشان دیکھو۔اُدھر عالم کشف میں قلم کی سرخی چھڑ کی گئی اور ادھر یہ سرخی وجود خارجی میں منتقل ہوگئی۔منشی صاحب نے سخت حیرت زدہ ہو کر بچشم خود دیکھا کہ حضور کے ٹخنے پر سرخی کا ایک قطرہ پڑا ہوا ہے۔انہوں نے اپنی داہنے ہاتھ کی شہادت کی انگلی اس قطرہ پر رکھی تو وہ قطرہ ٹخنے اور انگلی پر بھی پھیل گیا۔تب ان کے دل میں یہ آیت گزری صِبْغَةَ اللَّهِ وَمَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ صِبْغَةَ (البقرة: 139) انہوں نے سوچا کہ جب یہ اللہ کا رنگ ہے تو اس میں خوشبو بھی ہوگی۔مگر اس میں 28