قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 30
حضرت اقدس نے انہیں کشف کی پوری تفصیل سنائی۔بلکہ اپنے دست مبارک سے کشف میں قلم کے جھاڑنے اور دستخط کرنے کا نقشہ بھی کھینچا۔اور اسی طرز پر جنبش دی اور اُن سے پوچھا کہ اپنا کرتا اور ٹوپی دیکھیں کہیں ان پر بھی سرخی کا قطرہ تو نہیں گرا؟ انہوں نے کرتہ دیکھا تو وہ بالکل صاف تھا۔مگر ململ کی سفید ٹوپی پر ایک قطرہ موجود تھا۔منشی صاحب نے عاجزانہ درخواست کی کہ حضور اپنا یہ اعجاز نما کرتہ انہیں تبرکاً عنایت فرمائیں۔حضرت اقدس کا سلوک اپنے خدام ہی سے نہیں دشمنوں سے بھی فیاضانہ تھا۔لیکن آپ نے منشی صاحب کی یہ درخواست ماننے سے انکار کر دیا اور فرمایا مجھے یہ اندیشہ ہے کہ ہمارے بعد اس سے شرک پھیلے گا۔اور لوگ اس کو زیارت گاہ بنا کر اس کی پوجا شروع کر دینگے۔انہوں نے عرض کیا رسول اللہ ملا لیا ایم کے تبرکات بھی تو صحابہ رکھتے تھے۔ان سے شرک نہ پھیلا۔فرمایا ”میاں عبد اللہ در اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اسکیم کے تبرکات جن صحابہ کے پاس تھے وہ مرتے ہوئے وصیتیں کر گئے کہ ان تبرکات کو ہمارے کفن کے ساتھ دفن کر دینا۔چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔جو تبرک جس صحابی کے پاس تھا وہ ان کے کفن کے ساتھ دفن کر دیا گیا۔انہوں نے عرض کیا کہ حضور میں بھی مرتا ہوا وصیت کر جاؤں گا۔اس پر حضرت اقدس نے فرمایا ’ہاں یہ عہد کرتے ہو تو لے لو۔چنانچہ حضرت نے جمعہ کے لئے کپڑے بدلے اور یہ کر یہ نشی صاحب کے سپردکر دیا۔اس اعجازی کرتہ کا کپڑا نیوکہلاتا ہے اور سرخی کا رنگ ہلکا اور گلابی مائل تھا۔جس میں تینتالیس برس کی طویل مدت گزرنے کے باوجود خفیف سا تغیر بھی نہیں ہوا۔30