قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 79
ساری دُنیا میں پھیل کر دجال کا قلع قمع کر رہی۔وہ مکان جس کے کمرہ میں آپ نے سب سے پہلے مولانا نورالدین صاحب کی بیعت لی اور جماعت کی بنیاد رکھی ” دار البیعت“ کہلاتا ہے۔یہ مکان حضرت صوفی احمد جان رض صاحب کا تھا۔جو سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے گہری محبت رکھتے تھے۔لیکن قیام جماعت سے قبل ہی فوت ہو گئے تھے۔ان کی بیٹی سے حضرت خلیفہ اسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شادی بھی ہوئی۔یہ مکان صوفی صاحب کے صاحبزادوں نے صدر انجمن کے نام ہبہ کر دیا۔صدر انجمن نے اس کا انتظام مقامی جماعت کے سپرد کر دیا۔1916ء میں اس کی پہلی شکل میں کچھ تبدیلی کر کے جانب شمال ایک لمبا اور پختہ اور ہوادار کمرہ تیار کروا دیا گیا۔جس کی شمالی دیوار کی بیرونی سطح پر دار البیعت کا نام اور تاریخ بیعت کا کتبہ ثبت کیا گیا اور صحن میں پختہ اینٹوں کا کوئی بالشت بھر اونچا چبوترا اور ایک محراب بنوا کر نماز کیلئے مخصوص کر دیا گیا۔دسمبر 1939ء میں نماز گاہ پر ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد کی تعمیر ہوئی۔بجلی کے قمقمے آویزاں کئے گئے صحن میں ملکہ نصب ہوا اور غسل خانہ جائے ضرورت تیار کی گئی۔ایک لمبے کمرے کو دو میں تبدیل کر کے مشرقی کمرہ میں احمدیہ لائبریری قائم کی گئی۔اسی کمرہ کی مشرقی دیوار کے جنوبی کونے کے پہلو میں وہ مقدس جگہ ہے جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیٹھ کر پہلی بیعت لی تھی اور جماعت کا قیام عمل میں آیا تھا۔تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 380) 79