قادیان اور اس کے مقدس و تاریخی مقامات — Page 78
دارالبیعت لدھیانہ سید نا حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ میں آنے والے مسیح موعود کے بارہ میں یہ پیشگوئی فرمائی تھی : فَيَطْلُبُهُ حَتَّى يُدْرِكَهُ بِبَابِ لُةٍ فَيَقْتَلَهُ - (مشكوة كتاب الفتن ) کہ وہ دجال کا پیچھا کرے گا اور اُسے ”باب لڈ“ پر پالے گا اور اسے ( بذریعہ دلائل و براہین ودعا) قتل کر دے گا۔یہ پیشگوئی کئی لحاظ سے پوری ہوئی اور ہورہی ہے۔تاریخی لحاظ سے بھی ایک جائزہ تحریر ہے۔صوبہ پنجاب میں مسیحیت کا آغاز اس طرح ہوا کہ امریکہ سے دو عیسائی مشنری 15 اکتوبر 1833ء کو کلکتہ پہنچے اور وہاں گورنر جنرل لارڈ ولیم بیٹنگ کی پسندیدگی کے مطابق یہ فیصلہ ہوا کہ انگریزی مملکت کی سرحد پر ایک مشن قائم کیا جائے۔چنانچہ پادری جے سی۔لوری 5 رنومبر 1834ء کو لدھیانہ پہنچ گیا اور وہاں برطانوی حکمران نے اسے مشن قائم کرنے میں ہر قسم کی مراعات دیں۔زمین دلوائی اور اس طرح صوبہ پنجاب میں پہلا سیمی گرجا بمقام لدھیانہ 1837ء میں تعمیر ہوا۔اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف ہے کہ اس نے اسی شہر لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ 20 /رجب 1309 ہجری بمطابق 23 / مارچ 1889ء کو جماعت احمدیہ کی بنیا درکھوا کر قتل دجال کی مہم کا آغاز فرما دیا اور اس شہر کا ابتدائی لفظ بھی ”لد“ ہے۔جس جماعت کی بنیاد لدھیانہ میں رکھی گئی وہی 78