پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 17 of 60

پیاری مخلوق — Page 17

۱۷ بہت ہی باریک پود سے ہیں۔ان میں زیادہ تر ایک خلیہ کے یا پھر کئی خلیے مل کر کالونی بنا کر رہتے ہیں۔ان سب کو بھی آپ طاقتور خوردبین سے دیکھ سکتے ہیں۔ان میں غذا بنا نے والا سبز مادہ پایا جاتا ہے۔اس لئے اپنی غذا خود تیار کر لیتے ہیں۔یہ میٹھے اور ٹھہر سے ہوئے پانی کو پسند کرتے ہیں۔دوسرا خاندان سبز کائی (GREEN ALGAE) کا ہے۔یہ خاندان سمندری دریاؤں۔جو ہٹر اور تالابوں وغیرہ ہر جگہ پایا جاتا ہے۔اس میں بھی ایک خلیہ سے لے کر چھوٹے چھوٹے سادہ پود سے بھی ہیں۔ان میں بھی سبز مادہ پایا جاتا ہے۔اس لئے یہ سورج کی روشنی میں اپنی غذا خود تیار کر لیتے ہیں۔کسی پر بوجھ نہیں بنتے ان دونوں خاندانوں کو پانی کے چھوٹے چھوٹے جانور مثلاً مچھلیاں وغیرہ غذا کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔اب تو سائنسدانوں نے ان سے طاقتور غذائی گولیاں بنالی ہیں جو خلائی سفر وغیرہ میں استعمال ہوتی ہیں۔پھر اس سے کھا د بھی بنائی جاتی ہے۔دو خاندانوں سرخ اور بھوری کائی (PHODO PHYCEA-PHEOPHYCEA) ان میں سبز مادے کی جگہ آپ کو شرخ اور بھو را مادہ ملے گا۔یہ دونوں سمندر میں ملتی ہیں۔لیکن اتنی گہرائی پر جہاں سورج کی سفید شعاعیں نہیں پہنچے پاتیں۔یہ عموماً چھوٹے چھوٹے اور بڑے بڑے درختوں کی شکل میں ملتی ہیں۔چٹانوں اور پتھروں سے چپک کر پڑھتی ہیں۔خوبصورت ساخت ہوتی ہے۔اپنی غذا کو تیار کرتے ہیں انفرا ریڈرینیز (INFRA RED RAYS) اور الٹرا