پیاری مخلوق

by Other Authors

Page 12 of 60

پیاری مخلوق — Page 12

۱۳ پتھروں کو بہا تا میدانوں میں داخل ہوتا ہے۔ساتھ ہی لائی ہوئی زرخیز مٹی کو پھیلا دیتا ہے۔اور کھیتوں۔باغوں اور فصلوں کو سیراب کرتا آگے بڑھتا ہے یہ جنگل کے پاس سے گزرتا ہے۔تو بڑے بڑے درختوں کے تنوں کو جو لکڑی ہے بغیر انسانی طاقت صرف کئے میلوں تک پہنچا دیتا ہے۔آخر کئی شاخوں میں بٹ کر ڈیلٹا بناتا ہوا سمندر کی آغوش میں جا گرتا ہے۔اس ڈیلٹا کی مٹی بہت زرخیز ہوتی ہے۔ان دریاؤں ہی میں مچھلیاں اور آبی پرندے ہوتے ہیں جن کو انسان شوق سے کھاتے ہیں۔پھر یہ آمد و رفت کا ذریعہ بھی ہیں۔اس میں کشتیاں اور جہانہ چلتے ہیں۔دریاؤں کے کنارے ہمیشہ سے انسانوں کے لئے کشش کا باعث رہے ہیں۔آبادیاں اور بستیاں یہیں بسائی جاتی ہیں۔پرانے زمانے کی بڑی بڑی تہذیبیں دریاؤں کے کناروں پر آباد تھیں۔مثلاً بابلی تہذیب جو دریائے نیل کے کنارے۔موہنجوڈرو اور ہڑپہ کی تہذیب دریائے سندھ کے کناس سے پر ملی ہیں۔جھیلیں جو اپنے دامن میں پانی کو سمیٹ لیتی ہیں۔برف بھی پگھل لگھل کر ان میں جمع ہوتی ہے۔یہ دریاؤں کو بھی جنم دیتی ہیں۔ان کا پانی پینے کے علاوہ غذا پیدا کر نے کا ذریعہ ہے۔مچھلیاں - آبی جاندار - آبی پرندے ساتھ ہی کنا رے پر پھیلے ہوئے سر سبز میدان جن میں جانور پھل۔سب ہی انسان کے کام آتے ہیں۔اس پانی کی ایک بڑی دولت سمندر ہے اس سے انسان کو بیشمار فائدے