آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 43
اسی طرح متی باب ۲۷ آیت ۱۱ میں لکھا ہے :- یسوع حاکم کے رو برو کھڑا تھا اور حاکم نے اس سے پوچھا کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ یسوع نے اس سے کہا ہاں تو ٹھیک کہتا ہے۔“ لوقا باب ۲۳ میں لکھا ہے۔” اور ساری جماعت اٹھ کے اسے پیلاطوس کے پاس لے گئی اور اس پر نالش کرنی شروع کی کہ اسے ہم نے قوم کو بہکاتے اور قیصر کو محصول دینے سے منع کرتے اور اپنے تئیں مسیح بادشاہ کہتے پایا۔تب پیلاطوس نے اس سے پوچھا، کیا تو یہودیوں کا بادشاہ ہے؟ اس نے اس کے جواب میں کہا وہی ہے جو تو کہتا ( آیت اتا۶ ) یوحنا باب ۱۸ آیت ۷ ۳ میں لکھا ہے۔تب پیلاطوس نے اسے کہا سو کیا تو بادشاہ ہے؟ یسوع نے جواب دیا کہ جیسا آپ فرماتے ہیں میں بادشاہ ہوں۔“ لیکن رسول کریم صلای بیستم با وجود حکومت اور طاقت حاصل ہونے کے بادشاہ کہلانے سے سخت نفرت رکھتے تھے اور فرماتے تھے کہ قیصر و کسری والا رنگ ہم میں نہیں ہونا چاہیئے۔ان کو جب خدا تعالیٰ اقتدار بخشتا ہے تو وہ بنی نوع انسان کو غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔لیکن ہمیں خدا تعالیٰ نے خدمت خلق کے لئے پیدا کیا ہے۔پھر لکھا تھا کہ اس کا نام ”عجیب ہو گا۔حضرت مسیح خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ عجیب نام پانے والا وہ موعود ہے جو ان کے بعد آئے گا چنانچہ انگورستان کی مثال میں حضرت مسیح کہتے ہیں۔ایک مالک نے انگورستان لگایا اور باغبانوں کے حوالے کر دیا۔پھر مالک نے 43