آنحضرت ﷺ کے بارے میں بائبل کی پیشگوئیاں — Page 44
نوکروں کو اس کا پھل لانے کے لئے باغبانوں کے پاس بھیجا۔مگر باغبانوں نے باری باری تمام نوکروں کو مارا پیٹا یا پتھراؤ کیا۔اس کے بعد اور بڑے بڑے نو کر بھیجے گئے مگر ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہوا۔پھر اس نے اپنے بیٹے کو بھیجا مگر بیٹے کو بھی انہوں نے مار ڈالا۔“ اس کے بعد مسیح نے لوگوں سے سوال کیا کہ وہ باغبان جنہوں نے یہ معاملہ کیا بتاؤ ان کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ؟ لوگوں نے کہا ” ان بدوں کو بری طرح مار ڈالے گا اور انگورستان کو اور باغبانوں کو سونپے گا جو اسے موسم میں میوہ پہنچاویں۔یسوع نے انہیں کہا کیا تم نے نوشتوں میں کبھی نہیں پڑھا کہ جس پتھر کو راج گیروں نے ناپسند کیا وہی کونے کا سرا ہوا یہ خدا کی طرف سے ہے اور ہماری نظروں میں عجیب۔اس لئے میں تم سے کہتا ہوں کہ خدا کی بادشاہت تم سے لے لی جائے گی اور ایک قوم کو جو اس کو میوہ لا وے دی جائے گی۔جواس پتھر پر گرے گا چور ہو جائے گا پر جس پر وہ گرے گا اسے پیس ڈالے گا۔“ متی باب ۲۱ آیت ۳۳ تا ۴۵) اس تمثیل کے بیان کرتے وقت حضرت مسیح نے اس بات کا اقرار کیا ہے کہ بیٹے کو صلیب دینے کے بعد خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک اور مامور ظاہر ہوگا جو کونے کا پتھر کہلائے گا اور وہ مسیح اور تمام باقی لوگوں کی نظروں میں عجیب ہوگا۔پس جب مسیح خود کہتا ہے کہ عجیب وہ شخص کہلائے گا جو بیٹے کو صلیب دیئے جانے کے بعد آئے گا۔تو یقیناً محمد رسول اللہ صلی سیا سیتم ہی عجیب ہیں جو مسیح کے صلیب پانے کے بعد ظاہر ہوئے۔دوسرا نام آنے والے کا مشیر رکھا گیا ہے۔یہ نام بھی صرف رسول کریم صلی ا یہ تم پر ہی چسپاں ہوتا ہے کیونکہ آپ ہی تھے جن سے ساری قوم مشورہ لیا کرتی تھی اور جنہوں نے اپنی قوم میں مشورے کا رواج ڈالا اور حکومت کے لئے یہ لازمی قرار دیا کہ وہ 44