مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 849
849 کہ میرا وجود نہیں بلکہ میرے نا نا آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہے۔ان کے کپڑوں کی یہ کیفیت تھی۔(الف) جناب فیض مآب ملائک رکاب محبوب سبحانی قدس اللہ سرہ نہایت مقبول وضع اور خوش پوشاک رہتے تھے اور جسم مبارک کے کپڑے بھی ایسے بیش قیمت اور گراں بہا ہوتے تھے کہ ایک گز کپڑا دس دینار کوخریدا جاتا تھا۔بلکہ ایک دفعہ عمامہ کر امت شمامہ جناب غوشیہ کا ستر ہزار دینار کوخریدا گیا تھا۔“ گلدسته کرامات صفحه ۱۱۲ مطبع مجتبائی ، مناقب چهل و سوم در بیان بعض مخزن کرامات مطبع افتخار د بلی صفحه ۸۰) (ب) جناب غوث الاعظم نعلین ( جوتیاں ) قَدَمَيْنِ شَرِیفَتَيْنِ اپنے کی اس قدر بیش قیمت پہنا کرتے تھے کہ وہ نعلین یاقوت سرخ اور زمرد سبز سے مرصع ہوا کرتی تھیں اور نیچے کے تلووں میں ان کے میخیں چاندی اور سونے کی جڑی ہوئی تھیں اور کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوتا تھا کہ آپ نے کوئی نعلین آٹھ دن سے زیادہ اپنے پائے مبارک میں پہنی ہوں۔“ گلدسته کرامات صفحه ۱۲ مطبع مجتبائی مناقب چهل و چهارم در تعریف تعلین مطبع افتخار د بلی صفحه (۸) (ج) اور کبھی کوئی پوشاک ایک روز سے زیادہ آپ کے بدن شریف پر نہیں رہتی تھی اور سوداگر اور تجارا قالیم دور دراز سے پار چات عمدہ اور لباس ہائے بیش قیمت آپ کے واسطے لایا کرتے تھے اشیائے معطر سے آپ کو بہت شوق تھا کہ ہنگام مصروفیت عبادت جسم شریف اور لباس کو اس قدر عطر لگایا جاتا تھا کہ تمام مکان عالیشان مدرسہ معطر ہوجاتا تھا اور اکثر یہ شعر آپ کی زبان حق ترجمان پر رہتا تھا ہزار بار بشویم دہن زعطر و گلاب ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است گلدسته کرامات صفحه ۲۱ مطبع مجتبائی ) ے۔حضرت امام جعفر صادق نے اعلیٰ لباس زیب تن کیا۔“ (تذکرة الاولیاء مترجم اردو پہلا باب صفحه۱۵ شائع کردہ برکت علی اینڈ سنز علمی پرنٹنگ پریس ) نیز محبوبان الہی کے اعلیٰ لباس کے پہنے کی حکمت ملاحظہ فرمائیں ( کشف المجوب از حضرت داتا گنج بخش صاحب مترجم اردو مولوی فیروز الدین صاحب صفحه ۵۴ مطبوعہ فیروز سنز لاہور ) لیکن حضرت مسیح موعود کا لباس تو بالکل سادہ ہوتا تھا جس کا تم بھی انکار نہیں کر سکتے۔