مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 850 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 850

850 ۲۲۔طبیعت کی سادگی اور محویت غیر احمدی :۔حضرت مرزا صاحب بعض اوقات ایک پاؤں کا جوتا دوسرے میں پہن لیتے تھے۔کبھی قمیض کے بٹن نیچے اوپر لگا لیتے تھے عام طور پر لوگوں کے نام بھول جاتے تھے۔کیا اس قسم کا شخص بھی مقرب بارگاہ الہی ہوسکتا ہے؟ جواب۔یہی تو مقربان بارگاہ الہی کی علامت ہے کہ ان کو انقطاع الی اللہ کی وہ حالت میسر ہوتی ہے جس سے دنیا وار لوگ بکلی محروم ہوتے ہیں ان کی یہ محویت اس لئے ہوتی ہے کہ ان کو دنیا اور اس کے دھندوں کی طرف توجہ کرنے کے لئے وقت ہی نہیں ملتا۔کیونکہ وہ دن رات اپنے خالق کی طرف سے مفوضہ فرائض کی سرانجام دہی میں مصروف رہتے ہیں ان کو دنیا اور دنیا کے دھندوں میں قطعاً انہماک نہیں ہوتا کیونکہ وہ دنیا میں نہیں ہوتے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ہم تو بستے ہیں فلک پر اس زمیں کو کیا کریں آسماں کے رہنے والوں کو ز میں سے کیا نقار " ( در تمین اردو صفحه ۸۲) ا۔حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا:۔انْتُمْ أَعْلَمُ بِأمُورِ دُنْيَاكُمُ “ (کنز العمال جلد ۱ صفحه ۲۲۵ نیا ایڈیشن ) یعنی دنیا میری نہیں بلکہ تمہاری ہے اور تم ہی اپنی دنیا کے امور کو مجھ سے زیادہ سمجھتے ہو۔نیز دیکھیں مسلم کتاب الفضائل باب وجوب امتثال عن انس و عائشة ) ۲۔حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ہم کو ہدایت فرمائی ہے کہ دنیا اور دنیا کی چیزوں کے جاتے رہنے میں خطرہ نہیں۔ان کی طرف دل مشغول نہ کرنا چاہیے۔کیونکہ جب تو فانی کی طرف مشغول ہوگا تو باقی سے در پردہ رہے گا۔جبکہ نفس اور دنیا طالب کے واسطے حق سے حجاب ہوتا ہے۔اس لئے دوستانِ خدا وند عز و جل نے اس سے منہ موڑا ہے۔“ تلخیص از کشف المحجوب مترجم اردو مولوی فیروز الدین صاحب فصل اول ذکر حضرت ابو بکر صدیق) پھر فرماتے ہیں:۔ایک گروہ نے لباس کے ہونے یا نہ ہونے میں تکلف نہیں کیا۔اگر خداوند تعالیٰ نے ان کو گڈری دی تو پہن لی۔اور اگر قبادی تو بھی پہن لی۔اور اگر ننگا رکھا تو بھی ننگے رہے۔اور میں کہ علی بن