مکمل تبلیغی پاکٹ بک

by Other Authors

Page 756 of 982

مکمل تبلیغی پاکٹ بک — Page 756

756 انگریزی که مسلمان رعایا ئے خود را برائے ادائے فرض مذهبی شان آزادی بخشیده است دوباره ملاحظہ فرمائیں۔کیا بعینہ یہ وہی فتویٰ نہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیا ہے اور جس کی بناء پر آپ کو جہاد کا منکر قرار دیا جا رہا ہے؟ پس انگریزی حکومت کے خلاف عدم جہاد بالسیف کے فتویٰ میں حضرت مرزا صاحب منفرد نہیں۔بلکہ ان کے ساتھ حضرت سید احمد بریلوی شہید رحمتہ اللہ علیہ بھی شامل ہیں۔پس اگر گورنمنٹ انگریزی کے ساتھ تلوار کے ساتھ جہاد کرنے کی ممانعت کا فتویٰ آپ کے نزدیک بذات خود کفر ہے تو ایس گنا ہسیت که در شهر شما نیز کنند (ب)۔حضرت سید احمد بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کے مندرجہ بالا مکتوب کے علاوہ آپ کا تفصیلی فتوی درباره ممانعت جہاد ملاحظہ فرمائیں۔لکھا ہے۔”جب آپ رحمۃ اللہ علیہ سکھوں سے جہاد کرنے تشریف لے جاتے تھے۔کسی شخص نے آپ سے پوچھا کہ آپ اتنی دور سکھوں پر جہاد کرنے کو کیوں جاتے ہو۔انگریز پر جو اس ملک پر حاکم ہیں اور دینِ اسلام سے کیا منکر نہیں ہیں۔گھر کے گھر میں ان سے جہاد کر کے ملک ہندوستان لے لو۔یہاں لاکھوں آدمی آپ کا شریک اور مددگار ہو جائے گا کیونکہ سینکڑوں کوس سفر کر کے سکھوں کے ملک سے پار ہو کر افغانستان جانا اور وہاں برسوں رہ کر سکھوں سے جہاد کرنا یہ ایک ایسا امر محال ہے جس کو ہم لوگ نہیں کر سکتے۔سید صاحب نے جواب دیا کہ کسی کا ملک چھین کر ہم بادشاہت کرنا نہیں چاہتے۔انگریزوں کا یا سکھوں کا ملک لینا ہمارا مقصد نہیں ہے بلکہ سکھوں سے جہاد کرنے کی قدرتی یہ وجہ ہے کہ وہ ہمارے برادرانِ اسلام پر ظلم کرتے ہیں۔اور اذان وغیرہ فرائض مذہبی کو ادا کرنے سے مزاحم ہوتے ہیں اور سر کا رانگریزی گومنکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی۔اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے ہم ان کے ملک میں علامیہ وعظ کہتے ہیں اور ترویج مذہب کرتے ہیں۔وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی بلکہ اگر کوئی ہم پر زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا دینے کے لئے تیار ہے ہمارا اصل کام اشاعت توحید الہی اور احیاء سننِ سید المرسلین ہے سو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں۔پھر ہم سرکا رانگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں اور خلاف اصول مذہب طرفین کا خون بلا سبب گراویں۔